سٹی42: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو آج جنرل ہیڈکوارٹرز میں تینوں مسلھ افواج کے دستوں نے مشترکہ گارڈ آف آنر دیا۔ چیف آف ڈیفینس فورسز کے عہدہ کی تشکیل کے بعد تینوں مسلھ افواج ایک کمان میں آ گئی ہیں، اس کمان کو آج پہلا گارڈ آف آنر دیا گیا۔
جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ پروقار تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کو تینوں مسلح افواج کے دستے کی طرف سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
تقریب میں چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر سٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سمیت اعلیٰ عسکری افسران بھی شریک ہوئے، مسلح افواج کے مشترکہ دستہ نے اپنے چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جنرل سلامی پیش کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعزازی دستے کا معائنہ بھی کیا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بارفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو تینوں مسلح افواج کے دستوں نے سلامی پیش کی۔
معرکہ حق میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈائنامِک قیادت میں تینوں مسلح افواج نے ایک مکے کی طرح متحد ہو کر دشمن پر وار کئے اور دشمن کے بری، ہوائی اور بحری فورسز کے ساتھ سائیبر فورسز کے بھی دانت توڑ کر رکھ دیئے تھے۔ پاکستان نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ازلی حریف بھارت کو غیر متنازشکست سے دوچار کیا۔ دنیا بھر کے دفاعی امور کے ماہرین اور پروفیشنل فوجیوں نے پاکستان کی روایتی حریف پر فیصلہ کن برتری کو تسلیم کیا۔ دنیا بھر کے صف اول کے ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک ماہرین کے حلقوں میں دو ایٹم بم رکھنے والے ملکوں کی اس 90 گھنٹے کی مختصر جنگ کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا کام اب تک جاری ہے۔
معرکہ حق میں پاکستان نے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ناکام بنانے کے ساتھ دشمن کے 7 جدید ترین طیارے گرائے۔ روس کا بنایا ہوا ائیر ڈیفینس سسٹم ایس چار سو تباہ کیا اور دشمن کے دارالحکومت تک تمام علاقہ پر فضائی برتری قائم کی جس کو دنیا نے دیکھا۔ دشمن کی سائبر سکیورٹی کی کمر توڑ دی، خلائی سیارہ ناکارہ کر دیا، عسکری اور سٹریٹیجک نکتہ نظر سے اہم بجلی کی تسیل کے نظام کو تہہ و بالا کر دیا، سینکڑوں گرڈ سٹیشن طویل دورانیہ کے لئے ناکارہ کر دیئے، سینکڑوں اداروں کی ویب سائٹس ہیک کر کے بھارت کی ریاست اور غیر ریاستی اداروں کے منتظمین کو شدید خوف سے دوچار کر دیا۔
نوے گھنٹے کی اس جنگ کے آخری دس گھنٹے بھارت کی مکمل مفلوجیت کا دورانیہ تھے۔ اس مفلوجیت کا تماشا دنیا کے ڈیفینس ماہرین نے خوب دیکھا اور اب تک انگشت بدنداں ہیں۔
اس جنگ کے بعد پاکستان کے سیانوں نے مسلح افواج کی کمانڈ کے نطام کو مزید ایفیشینٹ بنانے کے لئے ضروری انتظامات کئے، ان اتظامات میں سے ایک چیف آف ڈیفینس فورسز کے نئے عہدہ کی تخلیق ہے۔پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے قوم کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے، مناسب غور و خوض کے بعد چیف آٖ ڈیفینس فورسز کے عہدہ پر پہلا تقریر 90 گھنٹے کی جنگ کے قائد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سونپا گیا ہے۔