ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ,بریت یا خارج شدہ مقدمات پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر نہ کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ,بریت یا خارج شدہ مقدمات پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر نہ کرنے کا حکم
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ , بریت یا خارج شدہ مقدمات پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا سے متعلق ایک اہم اصولی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مقدمے سے بری ہو چکا ہو یا مقدمہ خارج ہو چکا ہو تو اس مقدمے کا ذکر کریکٹر سرٹیفکیٹ میں نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے اس عمل کو انسانی وقار کے منافی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا۔جسٹس عبہر گل خان نے شہری عبد الرحمن کی درخواست پر چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی ملزم قانونی طور پر بری ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ جرم ثابت نہ ہونے پر قانون کی نظر میں بے گناہ ہے، اس لیے کسی سرکاری دستاویز میں اس ایف آئی آر کا ذکر غیر ضروری اور غیر منصفانہ ہے،
،،درخواست گزار عبد الرحمن پر 2024 میں لاہور کے تھانہ نواں کوٹ میں پتنگ بازی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا، جس سے وہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے بری ہو گیا۔ بعد ازاں اس نے انگلینڈ جانے کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کی درخواست دی، لیکن اس میں بریت کے باوجود کریمنل ہسٹری ظاہر کی گئی۔
درخواست گزار نے اس عمل کے خلاف ہوم سیکرٹری کو درخواست دی، تاہم فیصلہ نہ ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت کے حکم پر ہوم سیکرٹری نے جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ پولیس رولز کے مطابق ایف آئی آر کا ریکارڈ 60 برس تک محفوظ رکھا جاتا ہے اور اسے حذف نہیں کیا جا سکتا، تاہم بریت کی صورت میں اسٹیٹس اپڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ترمیمی پولیس رولز کے تحت ایف آئی آر کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جاتا ہے اور یہ ریکارڈ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندرونی استعمال کے لیے ضروری ہے۔ البتہ اس کا مقصد کسی بری ہونے والے شخص کے بنیادی حقوق کو مجروح کرنا نہیں ہونا چاہیے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایف آئی آر کو محفوظ رکھنا قانون کے مطابق ہے، مگر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بری ہونے والے شہری کے خلاف اس ریکارڈ کا کوئی منفی استعمال نہ ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں کسی ایسی ایف آئی آر کا ذکر نہ ہو جس میں درخواست گزار یا کوئی اور شہری بری ہو چکا ہو۔ لاہور ہائیکورٹ نے ہوم سیکرٹری کو حکم دیا کہ درخواست گزار کو اس کے موجودہ اسٹیٹس کے مطابق کلیئر کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ مزید یہ کہ فیصلے کی کاپی آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو بھی بھیجی جائے تاکہ اس اصول پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے مستقبل میں بریت یا مقدمہ خارج ہونے کے بعد لوگوں کو غیر ضروری قانونی رکاوٹوں سے بچانے میں مدد ملے گی۔

Ansa Awais

Content Writer