ملک اشرف : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کی ایک سالہ کارکردگی پر وکلاء نے اظہار تشکر کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس، جسٹس مس عالیہ نیلم، نے اپنی ایک سالہ خدمات کے دوران عدلیہ میں مثبت تبدیلیوں اور اصلاحات کی ایسی مثال قائم کی ہے جسے وکلاء برادری نے بھرپور سراہا ہے۔ ان کی قیادت میں عدالتی نظام میں بروقت فیصلوں اور سائلین کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کئی عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔وکلاء کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عدلیہ کو متحرک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ضلعی عدالتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک موثر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس سے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں میں شفافیت اور تیزی آئی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین وکلاء کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کو بھی وکلاء نے سراہا ہے، جو عدلیہ میں مساوات اور شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔وکلاء برادری نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کی کارکردگی کو نہ صرف شفاف اور مثالی قرار دیا ہے بلکہ کہا ہے کہ ان کی قیادت میں عدلیہ کی تاریخ میں ایک یادگار باب رقم ہوا ہے۔ ان کی محنت اور لگن سے عدلیہ میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور عوام کو انصاف کے نظام پر اعتماد بڑھا ہے۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی قیادت میں جاری یہ مثبت پیش رفت نہ صرف لاہور ہائیکورٹ بلکہ پورے عدالتی نظام کے لیے باعث فخر ہے۔ وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالت عالیہ کی نئی سمت اور وژن نے پورے نظام انصاف کو مزید فعال اور قابلِ رسائی بنایا ہے۔