ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں 5 افراد کی سی سی ڈی سے بازیابی کے متعلق کیس کی سماعت ،سی سی ڈی نے تین افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے متعلق رپورٹ پیش کردی ،درخواست گزار خاتون اور دیگر خواتین کی کمرہ عدالت میں چیخ و پکار ، عدالت نے تین ملزمان کی ہلاکت اور دو کے جسمانی ریمانڈ پر ہونے کے بازیابی کے متعلق درخواست نمٹا دی ۔
جسٹس جواد ظفر نے سائلہ صفیہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی قصور عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل فخر عباس بھی موجود تھے۔
سماعت شروع ہوتے ہی درخواست گزار خاتون اور اس کی بہو نے کمرہ عدالت میں شدید چیخ و پکار شروع کر دی جس سے کمرہ عدالت کا ماحول انتہائی جذباتی ہو گیا۔ خاتون روتے ہوئے عدالت کے سامنے بین کرتی رہی کہ اس کے بے گناہ بیٹوں کو پولیس نے مار دیا۔ خاتون نے کہا کہ “میں مر جاؤں، میرے بیٹے بے گناہ تھے، میری بہوئیں بیوہ ہو گئیں ہیں۔” خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار رات ایک بجے ان کے بیٹوں کو دفنا کر آئے ہیں۔درخواست گزار خاتون اور دیگر خواتین نے عدالت کے سامنے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیٹوں کو قتل کر دیا گیا ہے تو کم از کم انہیں ان کی لاشیں ہی دے دی جائیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ زیر حراست باقی دو افراد کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل فخر عباس نے عدالت کو بتایا کہ تین افراد مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے،،خرم شہزاد، تیمور اور شہزاد مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے دو دیگر ملزمان مشتاق احمد اور محمود کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے خلاف کتنے مقدمات درج تھے۔ اس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ خرم شہزاد کے خلاف ڈکیتی کے 14 مقدمات درج تھے جبکہ شہزاد کے خلاف 33 اور تیمور کے خلاف 18 مقدمات درج تھے۔جسٹس جواد ظفر نے ریمارکس دیے کہ چھ تاریخ کو یہ درخواست عدالت میں دائر ہوئی جبکہ اسی روز مبینہ پولیس مقابلے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد تین افراد کی ہلاکت اور دو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ پر ہونے کے باعث بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔