ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تین چار نکات پر مکمل اتفاق، اٹھارویں ترمیم، این ایف سی پر انکار، بلاول نے فیصلہ سنادیا

Bilawal Bhutto Zardari, City42, CEC, PPP. 18th amendment, Article 243 amendment
کیپشن: پیپلز پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس کے بعد چئیرمین بلاول بھٹو نے بتایا کہ پارٹی اٹھارویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، اس ترمیم کے تحٹ صوبوں کو ملے اختیارات پر عملدرآمد کروائے گی۔ انہیں نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی سرگرمی حمایت کی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے  پاکستان پیپلز پارٹی  کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں27 ویں آئینی ترمیم کے ضمن میں مفصل مشاورت کے بعد کہا  ہے کہ یہ بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے آڑٹیکل  243 میں ترمیم کے حوالے سے حمایت کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی فیصلہ ساز مجلس سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹ کے دو روز تک اسلام آباد میں جاری رہنے والے اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیو کے ساتھ گفتگو کی۔ بلاول بھٹو نے بتایا کہ آج پارٹی کی سی ای سی کے دوسرے دن کا اجلاس تھا۔دو دن ہماری بحث ہوئی ۔

آڑٹیکل 243 میں ترمیم؛ سویلین بالادستی پر کوئی اثرنہیں ہوگا

بلاول بھٹو نے سی ای سی کے فیصلوں کے متعلق بتاتے ہوئے کہا، ایک بات واضح ہے کہ ہم 243 کے حوالے سے حمایت کریں گے ۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ آرٹیکل 243 (ترمیم) کی منظوری سے صدر کے اختیارات اور سویلین سپر میسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔  243 کا نقصان سول سپر میسی اور جمہوریت کو ہوتا میں خود مخالفت کرتا۔

بلاول بھٹو نے کہا، آئینی عدالتوں کا سوال ہے ۔ یہ  پی پی پی کا ہی نکتہ ہے۔  چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کا ذکر ہے۔آئینی عدالت بننی چاہئے ۔

بلاول بھٹو نے کہا، چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نکات پر بھی اتفاق کیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نکات پر بھی اتفاق ہو۔
 بلاول بھٹو نے مزید کہا،  ججز کے تبادلوں کا سوال ہے ۔ آئین میں لکھا ہے کہ صدر پاکستان جج کی اجازت کے ساتھ تبادلہ کر سکتا ہے ۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ (ستائیو ویں ترمیم میں) حکومت چاہتی ہے کہ عدالت اور مشاورت کا سلسلہ ختم ہو۔ حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تبادلہ کرے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت سے مشاورت ہو ۔

بلاول بھٹو نے کہا، ایک وال یہ زیر بحث آیا کہ  ہائی کورٹ کے ججز کا تبادلہ کیسے ہو؛  پی پی کا مشورہ ہے (ہائی) کورٹ کے چیف جسٹس کو ووٹنگ کا حق نہ ہو ۔

ججز کا تبادلہ اسی فورم سے کیا جائے ۔

بلاول بھٹو نے دوسرے موضوعات کے متعلق بتایا، دہری شہریت کا سوال ہے،  الیکشن کمیشن کا سوال ہے ، میجسٹریٹی کا سوال ہے؛  ان پر ہم (سی ای سی کی میٹنگ میں) اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے۔

 بلاول بھٹو زرداری  نے مزید کہا،  آئینی عدالت کو چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نقاط سے مشروط کریں گے۔

تین چار نکات پر مکمل اتفاق، اٹھارویں ترمیم، این ایف سی پر انکار

بلاول بھٹو نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کو تین چار نکات پر اتفاق ہے؛ ستائیسویں ترمیم اس پر منظور ہو سکتی ہے۔

این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم کے نکات پر مسلم لیگ کسی اور سے دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے تو کر لے۔ 

بلاول بھٹو نے واضح الفاظ میں کہا، "پیپلز پارٹی این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ "

بلاول بھٹو نے مزید موضوعات پر بات کرتے ہوئے کہا، بلدیاتی اختیارات سندھ میں موجود ہیں۔  سب سے تگڑا بلدیاتی نظام سندھ میں موجود ہے۔

کسی ڈیزاسٹر میں قومی ذمہ داری

بلاول بھٹو زرداری  نے کہا،  خدا نہ خواستہ کوئی نیشنل ڈزاسٹر ہوگا تو صدر اور وزیر اعظم بھی مدد کریں گے۔

این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی

چئیرمین بلاول بھٹو نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رائے بتاتے ہوئے کہا، این ایف سی تمام صوبوں کو شیئر دیتا ہے ۔

ہم صوبوں کے شیئر کا تحفظ کریں گے ۔

انہوں نے کہا،  این ایف سی پر ہماری رائے واضح ہے 

وفاق کی معاشی مشکلات ہیں، وفاق خود ان سے نکلے ۔

این ایف سی ایوارڈ پر کچھ لوگ تنقید کرتے ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ اٹھارویں ترمیم سے پہلے دیا گیا تھا۔ 

اٹھارویں ترمیم

چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جو ذمے داری ملی ہے اس پر عمل کیا جائے۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ  این ایف سی ایوارڈ کے بارے سب سے زیادہ آواز سندھ سے اٹھ رہی  ہے۔ 

سندھ کے عوام این ایف سی کے حق میں ہیں۔ وفاق میں بیورو کریسی ایف بی آر ہے جو ناکام ہوئے ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کو حق دیا ہے۔