ویب ڈیسک: بنگلادیش ویمن کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر جہاں آرا عالم نے سابق سلیکٹر منظور الاسلام پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 کے ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران انہیں بار بار غیر مناسب حرکات اور نازیبا پیشکشوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی شکایات کو بورڈ حکام نے مسلسل نظر انداز کیا۔
جہاں آرا، جو اس وقت ذہنی صحت کے مسائل کے باعث ٹیم سے دور ہیں، نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح ٹیم مینجمنٹ کے ایک رکن نے انہیں غیر اخلاقی پیشکش کی، اور انکار کرنے پر انہیں ٹیم سے باہر کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
جہاں آرا کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک بار نہیں، کئی بار ہوا۔ جب آپ کسی ٹیم کے ساتھ ہوتے ہیں تو بہت سی باتیں کہہ نہیں پاتے۔ اگر روزگار اسی سے جڑا ہو تو احتجاج بھی مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بورڈ کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ کیا، مگر کسی نے سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔ حتیٰ کہ ویمنز کمیٹی کی سربراہ نادیل چوہدری اور بی سی بی کے چیف ایگزیکٹو نظام الدین چوہدری کو بھی آگاہ کیا، لیکن کوئی عملی اقدام نہیں ہوا۔
جہاں آرا نے الزام لگایا کہ 2021 میں ٹیم مینجمنٹ کے ایک رکن نے ایک کوآرڈینیٹر کے ذریعے انہیں ’ذاتی تعلقات‘ کی پیشکش کی۔
’میں نے نرمی سے بات بدل دی، مگر جب میں نے انکار کیا تو اگلے ہی دن منجو بھائی (منظور الاسلام) نے میرے خلاف رویہ بدل لیا اور مجھے نیچا دکھانے لگے۔‘