سٹی42: لاہور کے سب سے بڑے ہسپتال میو ہاسپٹل میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ ذبح خانہ میں پھنسے جانوروں جیسا سلوک کرنے والی انتظامیہ کے سرپراہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو بے زبان مریضوں کی شکایت پر برطرف کر دیئے جانے پر "میڈکل پروفیشنل" غصے میں آ گئے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)لاہور نےمیو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو برطرف کئے جانے کو " ہتک آمیز رویہ" قرار دیا اور اس کی مذمت کی ہے۔
پیایم اے کے لاہور چیپٹر کی جانب سے آج جمعرات کے روز میڈیا آؤٹ لیتس کو ایک بیان بھیجا گیا جس مین کہا گیا کہ پی ایم اے لاہور کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا ہے۔ اس مبینہ اجلاس میں عہدیداران نے کہا کہ محترمہ وزیراعلیٰ کی طرف سے ڈاکٹروں کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ یہ رویہ تشویشناک ہے۔
میو ہسپتال مین مریم نواز نے نریضوں اور ان کے ساتھ آئے ہوئے تیمار داروں کی شکایات سنی تھیں، اپنی آنکھوں سے ہسپتال میں بدنظمی کا جائزہ لیا تھا اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو برطرف کر دیا تھا۔
پی ایم اے کے مبینہ اجلاس میں عہدیداروں نے کہا کہ میو ہسپتال مختلف ادویات ساز کمپنیوں کا 3.2 ارب کا مقروض ہے جس کی وجہ بیورکریسی کی طرف سے فنڈز جاری نہ کرنا ہے۔
پی ایم اے نے میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی برطرفی کو لے کر پنجاب حکومت کے ہیلتھ سیکٹر مین تمام منصوبوں کو ہی غلط اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ پی ایم اے کے بیان مین کہا گیا، جلد بازی اور زمینی حقائق کے جانے بغیر میں شروع کیے گئے منصوبے پیسے کا ضیاع ہیں۔
سینئر طبی ماہرین کو گرفتاری کی دھمکیاں مرتے ہوئے صحت کے شعبے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ وزیر اعلیٰ کا میو ہسپتال کے ایم ایس کے ساتھ رویہ نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ تھا۔ ایک منتخب نمائندے کو ایک سرکاری ملازم کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔
پی ایم اے نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تو ایم ایس کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی حق ہی نہیں ہے، یہ فیصلہ "محکمہ صحت" کو کرنا چاہیے۔