ویب ڈیسک : ویسے تو اگر کوئی فرد دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں جیسے آکسفورڈ ے ڈگری حاصل کرلے تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بہت اچھی ملازمت حاصل کرسکتا ہے۔مگر ایک شخص ایسا ہے جو آکسفورڈ سمیت دنیا کی متعدد بڑی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوڈ ڈیلیوری ورکر کی ملازمت کر رہا ہے۔
39 سالہ ڈینگ یوآن زو کی کہانی چین میں کافی وائرل ہوئی ہے اور انٹرنیٹ پر اس کی تدریسی قابلیت اور ملازمتوں میں کمی پر بحث کی جا رہی ہے۔ڈینگ یوآن زو چین کے صوبے Fujian سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے پہلے Tsinghua یونیورسٹی سے کیمسٹری کی گریجویشن ڈگری حاصل کی۔اس کے مزید Peking یونیورسٹی سے انرجی انجینئرنگ کے شعبے میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
بعد ازاں سنگاپور کی Nanyang ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے بائیولوجی میں پی ایچ ڈی مکمل کیا جبکہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی بائیو ڈائیورسٹی کی ماسٹر ڈگری حاصل کی۔فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کی ملازمت سے قبل ڈینگ یوآن زو سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے، جہاں ان کی ملازمت کی مدت مارچ 2024 میں ختم ہوگئی تھی۔
اس کے بعد متعدد انٹرویوز دینے کے باوجود وہ کوئی مناسب ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ملازمت کے حصول میں ناکامی کے بعد انہوں نے سنگاپور میں خود کو فوڈ ڈیلیوری ورکر کے طور پر رجسٹر کرالیا اور روزانہ 10 گھنٹے کام کرکے ہر ماہ 550 ڈالرز کمانے لگے۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ 'یہ ایک مستحکم ملازمت ہے اور اس کی بدولت میں اپنے خاندان کی کفالت کر رہا ہوں، اگر آپ سخت محنت کریں تو آپ مناسب زندگی گزار سکتے ہیں، یہ بری ملازمت نہیں'۔انہوں نے مزید بتایا کہ 'اس ملازمت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کام کے ساتھ ساتھ جسم کی ورزش بھی ہو جاتی ہے'۔چند ماہ قبل وہ چین منتقل ہوگئے جہاں وہ بیجنگ میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کا کام کر رہے ہیں۔