اب فوج بھی الیکشن لڑ سکےگی

اب فوج بھی الیکشن لڑ سکےگی

سٹی 42:دنیا کی انوکھی جمہوریت،  اب فوج بھی الیکشن لڑ سکےگی، پارلیمان نے قانون منظور کرلیا  ،جس کے تحت حاضرسروس یا ریٹائرڈ فوجی اہلکار صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے اس سے قبل ایک آئینی ترمیم کے ذریعے موجودہ صدر کے 2030 تک اقتدار میں رہنےکی راہ ہموار کی جا چکی ہے۔

غیرملکی  نیوز ایجنسی  کی رپورٹ کے مطابق یہ قانونی تبدیلیا ں ایک سال کے بعد اس وقت آئیں ہیں جب مصری عوام نے بھاری اکثریت سے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جوکہ سابق آرمی چیف اور صدر عبدالفتاح السیسی کو 2030تک عہدے پر برقرر رہنے کی اجازت دیتی ہے ۔چونکہ مصر ایک جدید جمہوریہ بن چکا ہے جہاں دو صدور کے علاوہ تمام سربراہ فوجی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں ۔

مصری عوام کی زندگیوں میں فوج بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے ، فوج میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہنے والے افسران اس وقت وزراءکی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور گورنریٹ کی سربراہی کر رہے ہیں ۔

سابق جنرل اور موجود ہ صدر السیسی نے 2013 میں مورسی کی حکومت کا تخت الٹایا تھا ، وہ پہلی مرتبہ 2014 میں مصر کے صدر منتخب ہوئے اور اس کے بعد مارچ 2018 میں وہ ایک مرتبہ پھر 97 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے ۔

یہ ترمیم شدہ قانون افسران کو ان کی سروس کے دوران عوامی سطح پر معلومات دینے یا مسلح افواج کی سپریم کونسل کی اجازت کے بغیر سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے سے روکتا تھا ۔مصر ی فوج کے سابق چیف آف سٹاف ” سمی انان “ کو جنوری میں ملٹری کی واضح منظوری کے بغیر السیسی کے خلاف 2018 میں الیکشن لڑنے پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا ۔جسے تقریبا دو سال کے بعد رہا کیا گیا تھا ۔