عرفان ملک: ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس شہریوں کو محفوظ اور پُراعتماد ڈرائیور بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق سال 2025 میں صوبے بھر میں ڈرائیونگ اسکولز کی تعداد 124 سے بڑھا کر 133 کر دی گئی ہے، جس سے ڈرائیونگ اسکولز کی شرح میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ بھر میں ڈرائیونگ سیمولیٹرز کی سہولت کو نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے، جو پہلے صرف 5 شہروں تک محدود تھی، اب 37 اضلاع میں دستیاب ہے۔ اس طرح ڈرائیونگ سیمولیٹرز کی تعداد میں 620 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد طلبہ نے ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کی۔ گزشتہ سال 1 لاکھ 82 ہزار مردوں اور 34 ہزار خواتین نے ڈرائیونگ ٹریننگ مکمل کی، جبکہ 378 سے زائد ٹرانس جینڈر افراد کو مفت ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کی گئی۔
ترجمان کے مطابق ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کرنے والوں کی مجموعی تعداد میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹریفک پولیس رواں سال بھی شہریوں کو ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کرتی رہے گی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار تعلیمی اداروں میں ڈرائیونگ اسکولز قائم کیے گئے ہیں، جو نوجوانوں میں محفوظ ڈرائیونگ کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے کہا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے ڈرائیونگ اسکولز کا قیام ناگزیر ہے اور تربیت یافتہ ڈرائیور ہی محفوظ ٹریفک نظام کی بنیاد ہیں۔