ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میں تو سارا وقت بشریٰ بی بی کے ساتھ رہا، علی امین کا دعویٰ

Bushra Bibi and Ali Amin , City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بشریٰ بی بی کے اس بیان کہ مجھے سب نے اکیلا چھوڑ دیا تھا اور میری گاڑی پر سیدھی فائرنگ کی گئی، کے بعد علی امین گنڈاپور کا تردیدی بیان آیا ہے کہ میں تو سارا دن بشریٰ بی بی کے ساتھ رہا تھا۔   

پی ٹی آئی کے بانی کی بیوی بشریٰ بی بی اور دوست علی امین گنڈاپور  دونوں 26 نومبر کی رات اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کو اسلام آباد میں چھوڑ کر خود اپنے  محافظوں کے ساتھ  گاڑیوں میں بیٹھ کر مارگلہ کی پہاڑیاں عبور کر کے  پختونخواہ کی حدود میں چلے گئے تھے اور  ہزارہ کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے "محفوظ" مقام پر پہنچ گئے تھے۔  ان کے فرار کی رپورٹیں پاکستان کے تمام میڈیا آؤٹ لیٹس نے نمایاں شائع کی تھیں کیونکہ دونوں نے 24 نومبر سے پہلے اور اسلام آباد پر دھاوا کے دوران بہت دفعہ یہ کہا تھا کہ وہ ڈی چوک جائیں گے اور وہاں  سے تب واپس آئیں گے جب خود عمران خان جیل سے رہا ہو کر انہین واپس جانے کے لئے کہیں گے۔ لیکن 26 نومبر کی رات دونوں لیڈر اپنے ساتھ جانے والے سینکڑوں افراد کو سڑکوں پر چھوڑ کر خود غائب ہو گئے تھے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندہ جی ایٹ  مرکز میں اس جگہ موجود تھے جہاں یہ دونوں لیڈر اپنی گاڑیوں  میں سوار ہو کر فرار ہوئے تھے۔

ہفتہ کے روز خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بانی  کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے اسلام آباد میں سڑک پر اکیلے چھوڑے جانے کے دعوے کی تردید کردی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو میں سوال کے جواب پر علی امین گنڈاپور نے کہا ،  میں تو  پورا وقت بشریٰ بی بی کے ساتھ تھا، اگر بشریٰ بی بی کسی اور کے بارے میں کہہ رہی ہیں تو اس بارے میں انہی سے پوچھا جائے۔

اس  موقع پر علی امین گنڈاپور نے صحافیوں کے سامنے ایک بار پھر کہاکہ کہ وہ  پانی پت کی جنگوں کی طرح حملے کریں گے، اور ان کے بقول فتح حاصل کریں گے۔

بشریٰ بی بی اسلام آباد سے  26 اور 27  نومبرکی درمیانی رات فرار ہونے کے بعد کئی دن تک پشاور میں خاموش رہیں اور میڈیا کے سامنے نہیں آئیں، اس کے بعد  گزشتہ روز  انہوں نے چارسدہ میں کسی کارکن کے گھر جا کر میڈیا کے سامنے یہ باتیں کیں کہ "مجھے ڈی چوک پر اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا لیکن میں بھاگنے والی عورت نہیں۔"

 خیال رہے کہ 26 نومبر کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد مظاہرین سے خالی کروانے کا آغاز کیا تو اس کی ابتدا ہوتے ہی علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی دونوں فرار ہوگئے تھے۔  اور ان کے ساتھ جانے والے اور خود سڑکوں پر پہنچ جانے والے تمام کارکن بھی بھاگ نکلے تھے۔ پولیس نے سینکڑوں افراد  کو گرفتار کیا تھا۔ 

علی امین اور بشریٰ بی بی اسلام آباد سے فرار کے بعد مانسہرہ چلے گئے تھے۔

علی امین اور بشریٰ بی بی کے جتھے کے اسلام آبد کی حدود مین 25 نموبر کو داخلے کے بعد اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں نے انہیں عملاً کہین بھی نہین روکا تھا، وہ رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے سست روی سے آگے آتے گئے تھے۔ 26 نمبر چونگی کے مقام پر جتھے میں شامل افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔ اس کے بعد بشریٰ بی بی اور علی امین کے جتھے  نے اسلام آباد کے اندر پیش قدمی جاری رکھی تھی، 26 نومبر کو علی الصبح اسلام آباد کی  سری نگر ہائی وے پر ڈیوٹی کرتے رینجرز اہلکاروں پر کسی شر پسند نے تیز رفتار گاڑی چڑھا دی جس سے کئی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد وفاقی حکومت نے آئین کے آڑٹیکل 246 کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا اور آرمی کو  وفاقی دارالحکومت میں تنصیبات کی حفاظت اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لئے طلب کر لیا تھا۔ 

آرٹیکل 245 کے تحت گولی چلانے کے اختیارات کے ساتھ سڑکوں پر تعینات کئے گئے جوانوں نے دن بھر کنٹینروں پر اچھلتے کودتے شر پسندوں کو دور سے دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا تاہم شام کا اندھیرا ہونے سے پہلے انتظامیہ نے اعلان کیا کہ شاہراہ دستور پر آئے ہوئے سینکڑوں شر پسند خود ہی واپس چلے جائین ورنہ ان کے ساتھ سختی کی جائے گی۔

اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں موجود شر پسندوں سے بھی یہی کہا گیا تھا۔ علی امین اور بشریٰ بی بی کو بھی یہ پیگام پہنچایا گیا تھا کہ وہ سڑک سے از خود چلے جائین ورنہ سختی کی جائے گی۔ اس پیغام کے ملنے کے بعد دونوں کچھ دیر تک جی ایٹ مرکز کے علاقے مین سڑک پر موجود رہے پھر باہمی مشورہ کے ساتھ سڑک سے ہٹ کر گاڑیاں بھگا کر لے گئے تھے۔ اس موقع پر انہیں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کہیں نہیں روکا تھا تاہم ان کے اپنے کارکنوں نے ہی جی ایٹ مرکز کے علاقے مین ان کی گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی تھی جسے وہ خاطر میں نہیں لائے تھے۔