ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نریندر مودی ووٹ چوری کر کے وزیراعظم بنے, حقائق طشت از بام

Rahul Gandhi News Conference m Vote theft, Election Commission of India, Lok Sabha Election, City42
کیپشن: انڈیا میں ہندوتوا کے ناکام ایجنڈا کو لے کر الیکشن لڑنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی غیر مقبول ہونے کے باوجود فیک ووٹوں کی مدد سے الیکشن کیسے جیتی، ہریانہ سے لے کر کرناٹک تک کیسے دھاندلا کیا گیا، کانگرس کے لیڈر راہل گاندھی نے طویل تحقیقات کے بعد نریندر مودی کی جعلسازیوں کا پلندہ نیوز کانفرنس میں دنیا کے سامنے رکھ دیا۔  2024 کے لوک سبھا الیکشن میں نریندر مودی سرف  25 لوک سبھا نشستوں کی برتری کی بنیاد پر اتحادی پارٹی کی مدد سے وزیراعظم بنے تھے۔ (یہ سکرین شوٹ ایک پر موجود ویڈیو سے لیا گیا۔)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: انڈیا میں مئی 2024 کے لوک سبھا عام انتخابات میں ووٹ چوری ہوئے تھے، نریندر مودی ووٹ چوری کر کے وزیراعظم بنے۔ یہ انکشاف اندیا کی اپوزیشن کی پچاس پارٹیوں کے اتحاد "انڈیا" الائنس کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کانگرس کی سیکرٹری جنرل  اور رکن لوک سبھا پرینکا گاندھی نے کیا ہے۔

انڈیا کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی نےنیوزکانفرنس کر کے  پختہ ثبوتوں کے ساتھ سچائی ملک کے سامنے رکھ دی،  پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ 5 طریقوں سے ووٹوں کی دھاندلی ہوئی۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم نے کرناٹک کی ایک اسمبلی مہادیو پورہ علاقہ کی جانچ کی اور وہاں یہ سامنے آیا  کہ یہاں 100250 ووٹوں کی چوری کی گئی۔ 5 طریقوں سے یہ فرضی ووٹ لسٹ میں جوڑے گئے۔‘‘   
 بھارت کی حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج سات اگست کو  پریس کانفرنس میں ’ووٹ چوری‘ سے متعلق جس انداز میں ثبوت پیش کیے، وہ لوگوں کے لیے آنکھیں کھولنے والا ہے۔ انھوں نے پارٹی سطح پر کئی ماہ کی محنت کے بعد تیار ڈیٹا سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ انڈیا کا الیکشن کمیشن کس طرح بی جے پی کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ کانگریس پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی راہل گاندھی کے ذریعہ پیش کردہ ثبوتوں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کی ایک مختصر ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ 5 طریقوں سے ووٹوں کی دھاندلی کی گئی ہے۔

پرینکا گاندھی نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہم نے کرناٹک کی ایک اسمبلی مہادیو پورہ علاقہ کی جانچ کی اور پایا کہ یہاں 100250 ووٹوں کی چوری کی گئی۔ 5 طریقوں سے یہ فرضی ووٹ لسٹ میں جوڑے گئے۔‘‘ اس کے بعد کانگریس کی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ نے وہ 5 طریقے بھی بتائے ہیں اور یہ ڈیٹا بھی پیش کیا ہے کہ کس طریقے سے کتنے ووٹوں کی مبینہ دھاندلی مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں ہوئی۔ وہ طریقے اور ڈیٹا اس طرح ہیں:

11965 ڈپلی کیٹ ووٹر بنائے گئے۔
40009 فرضی پتوں (ایڈریس) کا استعمال ہوا۔
10452 ووٹر بڑی تعداد میں ایک ہی پتہ پر رجسٹر کیے گئے۔
4132 ووٹر  بغیر تصویر یا  ناجائز تصویر کے ساتھ لسٹوں میں شامل کروائے گئے۔
33692 نئے ووٹر فارم-6 کا غلط استعمال کر کے ووٹر لسٹوں میں ڈالےگئے۔
مذکورہ بالا تفصیلات پیش کرنے کے بعد پرینکا گاندھی لکھتی ہیں کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی جی نے پختہ ثبوتوں کے ساتھ یہ سچائی ملک کے سامنے رکھ دی ہے کہ کس طرح انتخابات میں دھاندلی کر کے جمہوریت کو ختم کیا جا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے بتایا کہ اٹھارہ سال کا ہو جانے والے شہریوں کے نئے ووٹ بنانے کے لئے مختص فارم 6 کا بہت بڑے پیمانے پر دھاندلی کے لئے استعمال کیا گیا۔ ایک ایک نوجوان کے چار چار مرتبہ  ووٹ بنوائے گئے۔ ایسے سب ووٹوں میں نام کے اندراج میں ہیر پھیر کیا گیا۔

ایک ہی ووٹر چار ریاستوں میں جا کر ووٹ ڈالتا ہے

راہل گاندھی نے  ایک شخص کے کئی ریاستوں میں ووٹ بنانے کی ایک بلنٹ مثال پیش کی اور بتایا کہ "آدتیہ سری واستو" نام کے آدمی کا ایک ہی نام سے چار ریاستوں میں ووٹ بنایا گیا۔ ان کا نام مہاراشٹر مین ہے، کرناٹک میں ہے، اترپردیش لکھنؤ میں ہے اور کرناٹک کے بنگلور میں بھی یہ ووٹر ہیں۔راہل گاندھی نے صحافیوں کے سامنے  آدتیہ سری واستو، وشال سنگھ اور کئی دوسرے فیل ووٹروں کے فیک ہونے کے دستاویزی ثبوت دکھائے، ایک ہی ووٹر ایک ہی نام اور تصویر کے ساتھ کئی ریاستوں میں ووٹڑ کی حیثیت سے رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔

غلط ایڈریس کے ساتھ چالیس ہزار فیک ووٹ

راہل نے بتایا کہ (صرف ایک انتخابی حلقہ میں) چالیس ہزار ووٹر ایسے نکلے جن کے یا تو ایڈریس تھے ہی نہیں یا ایڈریس غلط تھے۔

ایک کمرے کے گھر میں 80 فیک ووٹر

راہل گاندھی نے اپنی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ایک بیڈ روم کے گھر میں 80  ووٹر رجسٹرڈ کروائے گئے، ہم نے جب جا کر دیکھا تو وہاں یہ ووٹر نہیں رہتے تھے۔

راہل گاندھی نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق اسی ووٹر جس ایک بیڈ روم کے گھر میں رہتے تھے، وہاں جا کر دیکھا تو وہاں ایک بھی ووٹر نہیں نکلا، علاقہ کے لوگوں نے بتایا ہم ان میں سے ایک کو بھی نہیں جانتے۔

جعلی ووٹروں کو چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے تباہ کئے گئے، اس طرح کرناٹک کا الیکشن چرایا گیا۔

ہریانہ کا دھاندلا

ہریانہ میں الیکشن سے پہلے اندازے کچھ اور تھے لیکن الیکشن کے بعد ووٹوں کی گنتی میں عوام اور الیکشن کے ماہرین کے تمام تخمینے غلط نکلے اور بی جے پی اندازوں سے  زیادہ نشستیں جیت گئی تھی۔ آج نیوز کانفرنس مین راہل گاندھی نے بتایا کہ ہریانہ میں منظم دھاندلی ہوئی تھی اور اس  دھاندلی کے لئے ہر انتخابی حلقہ مین پندرہ فیصد تک فیک ووٹ  بنوائے گئے تھے۔

راہل گاندھی نے بتایا کہ ہریانہ الیکشن میں کانگرس اتحاد اور بی جے پی کا بہت معمولی فرق تھا، وہاں ساری ریاست میں  22 ہزار ووٹوں کا فرق نکلا تھا، ہریانہ میں ایک ایک اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ ووٹ فیک بنوائے گئے۔

ایک حلقہ میں انہوں نے بارہ سے پندرہ فیصد ووٹ  مینوفیکچر کر لئے۔ جن حلقوں میں الیکشن میں دو چار فیصد کا فرق چل رہا تھا وہاں انہوں نے  دھڑاکے سے سویپ کر لیا، انہوں نے ایسی کئی نشستوں پر سویپ کر لیا جس سے پورا الیکشن چلا گیا۔

راہل گاندھی نے کہا نریندر مودی (صرف)  25 لوک سبھا نشستوں کی بنیاد پر وزیراعظم بنے۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ کریمینل ایویڈنس ہے،  الیکشن کمیشن ہمیں اس لئے ڈیٹا نہیں دے رہا۔  الیکشن کمیشن پورے ملک مین ایویڈنس کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن صرف  45 دن بعد سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگز ختم کر رہا ہے، اب تو یہ زمانہ ہے کہ لامتناہی حجم کا ڈیٹا ایک ہی ہارڈ ڈرائیو پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے، سو سال، دو سو سال کا ڈیٹا، جتنا چاہے محفوظ رکھ لو -  لیکن الیکشن کمیشن ثبوت مٹانے کے لئے سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کا ڈیتا ختم کر رہا ہے۔ اس لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ ملا ہوا ہے۔