سٹی 42: ایچ ای سی نے ملک سے باہر بھیجے گئے سکالرز کیلئے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔
سرکاری خرچ پر بیرون ممالک میں پڑھنے والے پی ایچ ڈی سکالرز کیلئے نئی پالیسی بنانے پر غور شروع کردیا ۔ مجوزہ تجویز کے مطابق ملک سے باہر بھیجے گئے پی ایچ ڈی سکالرز اگر فیل ہوگئے تو جرمانہ نہیں ہوگا۔
میرٹ پر بھیجے گئے پی ایچ ڈی سکارلز اگر مطلوبہ وقت میں ڈگری مکمل کرنے میں ناکام رہے تو انہیں ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں پی ایچ ڈی سکالرز کے فیل ہونے کی شرح 50 فیصد اور پاکستان میں 5 فیصد ہے۔ایچ ای سی نئی پالیسی میں سکالرز سے دستخط کروانے والے حلف نامے میں ترامیم کرے گا ۔
جو سکالرز ناکام ہونے کے بعد ملک واپس آئیں تو انہیں قانونی چارہ جوئی اور جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔سکالرز کیلئے بانڈ کی شرائط اور پانچ سال کی پابندی پر بھی نظر ثانی کی جارہی ہے، ان طلباء کو سخت جرمانوں کا سامنا ہوگا جو ناکام ہو جائیں لیکن بیرون ملک روزگار اور رہائشی کیلئے سکونت اختیار کرلیں۔ایچ ای سی نے بیرون ملک بھیجے گئے 100 سے زائد مفرور اور ناکام سکالرز سے جرمانے کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرنے ہیں۔
سیاسی پناہ کی حوصلہ شکنی سمیت دوسروں شقوں کو بھی نئی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔