ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پانی قلت، توانائی بحران؛ بجلی چوروں کو 10 سال قید کی سزا کا اعلان

 پانی قلت، توانائی بحران؛ بجلی چوروں کو 10 سال قید کی سزا کا اعلان
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42:  پانی قلت کے باعث توانائی بحران پیدا ہونے پر بجلی چوری کرنے والوں کو 10 سال قید کی سزا کا اعلان کر دیا گیا۔ بجلی کے استعمال کے ضوابط کی خلاف ورزی پر اب فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ 
 یہ اعلان پاکستان کے دوست ملک تاجکستان میں کیا گیا ہے جس کا مقصد انرجی کرائسس کے دوران بجلی کی چوری روکنا ہے۔
 تاجکستان کے کیپیٹل دوشنبے کی نیوز آؤٹ لیٹس میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ  تاجکستان  کی حکومت نے بجلی کے غیر قانونی استعمال پر 10 سال تک قید کی سزا کا قانون نافذ کر دیا ہے۔

دوشنبے میں انرجی کی وزارت نےاعلان کیا کہ بجلی کے استعمال کے ضوابط کی خلاف ورزی پر اب فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ 

نئے قانون کے تحت اگر کوئی شخص میٹر سے چھیڑ چھاڑ کرے یا اسے بائی پاس کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

 تاجکستان میں کئی سال سے جاری بجلی کی کمی  آج کل پانی کی کمی کے باعث مزید سنگین ہو گئی ہے،  عوام کو صرف نصف وقت ہی بجلی کی ترسیل ممکن ہوپاتی ہے۔ بجلی کی کمی الگ،  پرانا انفراسٹرکچر بھی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔

تاجکستان میں95 فیصد بجلی پن بجلی گھروں سے پیدا ہوتی ہے، اب پانی کی مسلسل قلت کے باعث  ہائیڈل پاور ہاؤس اپنی صلاحیت سے بہت کم بجلی پیدا کر رہے ہیں اور  بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان جو 1992 سے اقتدار میں ہیں،  انہوں نے مارچ میں عوام کے بجلی کے غیر دانشمندانہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد بجلی چوری کی سخت ترین سزا کا قانون آ گیا ہے۔