سٹی42: "اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی" کے مصداق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلیا کے اس دور افتادہ جزیرے پر بھی ٹیرف ٹھوک دیا جہاں پینگوئین رہتے ہیں اور انسان سالوں بعد کبھی کبھار ہی وہاں جاتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس اقدام کا بہت سے لوگوں نے تمسخر اڑایا تو امریکی حکومت کو اس فیصلہ کے دفاع میں یہ عجیب جواز پیش کرنا پڑا کہ جزیرہ تو واقعی غیر آباد ہے لیکن اب تمام ملکوں پر ٹیرف لگنے کے بعد امریکہ کو سامان بیچنے والے ایسے ہی غیر آباد جزیروں کو استعمال کرنے کے بارے مین سوچیں گے، کیونکہ "وہ سوچیں گے" اس لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اس غیر آباد جزیرہ پر ٹیرف لگا دیا ہے۔ اردو زبان کا محاورہ "اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی" دراصل ایسی ہی "دور کی سوچنے" والی کسی حرکت پر چست کیا جاتا ہے۔
اب دنیا تنقید کر رہی ہے لیکن امریکی حکام اپنے صدر کےان پیگوئینز کے مسکن دورافتادہ غیرآباد جزائر پر تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا دفاع کر رہے ہیں۔
برف کے براعظم انٹارکٹکا کے قریب غیر آباد جزائر ہرڈ آئی لینڈ اور میکڈونلڈ آئی لینڈز پر بھی امریکا کی جانب سے 10 فیصد تجارتی ٹیرف عائد کر دیا گیا ہے۔ ان جزائر پر انسان نہیں رہتے تاہم ان کا انتظام آسٹریلیا کرتا ہے۔
ابتدا میں یہ انکشاف انگلینڈ کی ایک نیوز آؤٹ لیٹ نے کیا تھا کہ ٹرمپ ٹیرف سے پینگوئین بھی محفوظ نہیں رہے بلکہ دنیا میں ’کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی‘، ٹرمپ کے ٹیرف ان دور افتادہ جزائر پر بھی لگ گئے جہاں صرف پینگوئنز رہتی ہیں ۔
یہ جزائر ہماری زمین کے انسانی آبادی سے دور، دور افتادہ ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں جہاں صرف برفانی گلیشیئرز ہیں اور صرف پینگوئن رہتے ہیں۔ ان جزائر پر انسانی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ان جزیروں میں انسانوں کا آخری وزٹ 10 سال پہلے ہوا تھا۔
آسٹریلیا کے وزیرتجارت نے ویران جزائر پر ٹرمپ ٹیرف کو جلد بازی کی غلطی سمجھا
برٹش نیوز آؤٹ لیٹ نے بتایا، آسٹریلوی حکام کو جب گزشتہ ہفتے ان جزائر پر ٹرمپ ٹیرف عائد ہونے کا علم ہوا تو وہ حیران رہ گئے۔ آسٹریلیا کے وزیر تجارت ڈان فیرل نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان جزائر پر ٹیرف کا نفاذ ’واضح طور پر ایک غلطی ہے‘ جو ’جلدبازی میں کیے گئے عمل‘ کی نشاندہی کرتی ہے۔
ٹرمپ نے ٹیرف سے بچنے کی کوشش کرنے والے ملکوں کا راستہ پہلے ہی بند کر دیا
کامن سینس سے سوچنے والے آسٹریلین وزیر تجارت کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارت ہاورڈ لٹنک نے صدر ٹرمپ کے اس الہامی نوعیت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے امریکی میڈیا کو بتایا کہ ہرڈ آئی لینڈ اور میکڈونلڈ آئی لینڈز پر ٹیرف لگانے کا مقصد "ان خامیوں کو دور کرنا ہے جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ممالک ٹیر ف سے بچنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔"
ٹرمپ بہادر کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ اگر آپ کسی علاقہ کو ٹیرف کا شکار ہونے والے علاقوں کی فہرست سے نکال دیں گے تو وہ ممالک جو امریکی نظام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہی راستوں سے ہم تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
اس طرح ٹرمپ کے ہونہار وزیر نے پہلے ہی فرض کر لیا کہ دنیا بدعنوان ملکوں سے بھری پڑی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرفس سے بچنے کے لئے "چالاکی" ضرور کریں گے اور ٹرمپ کے ٹیرف سے بچنے کے لئے غیر آباد جزیروں پر جا کر انڈسٹری لگائیں گے اور وہاں سے امریکہ کو "ٹرمپ ٹیرف فری ایکسپورٹ" کرنے کی کوشش کیا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ "اس بات" کو جانتے ہیں، وہ "اس کھیل" سے تنگ آ چکے ہیں اور اب وہ اسے درست کرنے جا رہے ہیں۔