ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیر ریلوے کی زیرِ صدارت اجلاس؛ انفراسٹرکچر پر تفصیلی بریفنگ، اہم فیصلے کیے گئے

وزیر ریلوے کی زیرِ صدارت اجلاس؛ انفراسٹرکچر پر تفصیلی بریفنگ، اہم فیصلے کیے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں ریلوے انفراسٹرکچر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، ساتھ ہی ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ 

اجلاس میں ایم ایل ون پر انجینئرنگ ریسٹرکشنز کے خاتمے کیلئے ایک سال کا ٹاسک دے دیا گیا، بتایا گیا کہ ایم ایل ون پر سفری دورانیہ کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں، ریسٹرکشنز کے خاتمے سے ٹرینوں کا سفری دورانیہ کم ہو گا۔ مزید کہا گیا کہ ٹریک بحالی کے پراجیکٹس پر کام تیز کیا جائے۔ اس کے علاوہ  کیماڑی حیدرآباد سیکشن پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ 

اجلاس میں کہا گیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر چھ ماہ میں سلیپر تیار کر کے دیں، انتظامیہ دو سال کا پراجیکٹ ایک سال میں کرے ، سال کے آخر تک چار ٹیمپنگ مشینیں قابلِ استعمال بنائی جائیں۔ شہباز شریف نے پنجاب میں تین سال کے منصوبے ایک سال میں مکمل کر کے دکھائے، ریلوے انتظامیہ ان کے ماڈل کی پیروی کرے۔ مال گاڑیوں سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جائے، لیکج روکی جائے۔

اجلاس میں فریٹ ٹرینوں کی بکنگ آن لائن کر کے انسانی مداخلت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس حوالے سے کہا گیا کہ مسافر ٹرینوں کی آن لائن بکنگ کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ 

وزیر ریلوے نے ریلوے کالونیوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی لسٹ مانگ لی۔غیر متعلقہ افراد، ریٹائرڈ افسران کی ریلوے ریسٹ ہاؤسز میں رہائش پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ وزیر ریلوے نے تین ماہ میں ٹرینوں کی باقاعدگی 90 سے 95 فیصد تک لانے کا ٹاسک دے دیا۔ حنیف عباسی نے کہا کہ ٹرینوں کی باقاعدگی خود مانیٹر کروں گا، منسٹر سمیت کسی شخص کیلیے ٹرین لیٹ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ صفائی ستھرائی اور کھانے کے معیار کو بہتر بنایا جائے، تمام ڈی ایسز کی کارکردگی کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا ۔ 

وزیر ریلوے نے کہا کہ کارکردگی کے جائزہ کیلئے سٹاف کے بغیر دفاتر اور اسٹیشنز کا وزٹ کروں گا ۔ 

اجلاس میں تمام بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر ایلی ویٹر لگانے کا فیصلہ کیا گیا ، بتایا گیا کہ راولپنڈی اسٹیشن سے ابتداء کی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب، صوبے کے عوام کی رسائی دور دراز علاقوں تک چاہتی ہیں، انہوں نے برانچ لائنوں کی بحالی کیلیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اجلاس میں تجاوزات کے خاتمہ کیلئے پنجاب اور سندھ سے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بتایا گیا کہ دائرہ کار ملک بھر میں پھیلایا جائے گا، ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے آپریشن کیے جائیں گے۔ 

وزیر ریلوے نے کمرشل پوٹینشل کی حامل ریلوے زمینوں کا بریک اپ مانگ لیا، ساتھ ہی تمام ڈویژنز کو، لِیز کی گئی زمینوں کی تفصیل جمع کروانے کی ہدایت کردی۔