جی ہاں حالیہ مون سون میں جس قدر شدت کے ساتھ بارشیں ہوئی ہیں اور جس سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اس کا براہ راست تعلق موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی ضرور ہے، حالیہ مون سون جس کا باقاعدہ آغاز ایک ہفتہ پہلے جون کے آخر میں ہو گیا تھا اور متنبہ کیا جا رہا تھا این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے کہ معمول سے زیادہ بارشیں ہونگی.
جولائی اور اگست میں مختلف علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں موسلادھار بارشیں، جس کے باعث سیلابی صورتحال بنی اور پھر صرف پاکستان ہی نہیں پڑوسی ملک انڈیا میں بھی شدید بارشوں سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، انڈیا کی جانب سے متعدد بار پانی چھوڑا گیا اور پھر پاکستان کو سیلاب سے متعلق الرٹس بھیجے گئے، پاکستان کے دریاؤں میں سنگین صورتحال ہوئی خاص طور پر پنجاب کے 3 دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں بیک وقت اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، یہ صورتحال 26 اگست سے بنی اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔
این ڈی ایم اے کے کلائمیٹ ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب نے اپنی خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کے ان دریاؤں میں راوی میں 1988 میں یہ صورتحال بنی، چناب میں 2014 میں جبکہ ستلج میں 1988 اور 2023 میں ایسی صورتحال بنی،یہی نہیں پڑوسی ملک انڈین ریجنز میں بھی کہیں 40 سال کا تو کہیں 70 سال کا ریکارڈ ٹوٹا ، ماضی میں بھی ایسے سیلاب آئے لیکن جو ابھی سیلابی صورتحال بنی ہوئی ہے یہ مختلف ہے۔
لیکن ایسا کیوں ہے؟ اس صورتحال کی وجہ کیا ہے؟؟
اس بارے میں ڈاکٹر طیب نے بتایا کہ 2025 کے مون سون میں 2 ایسے پیٹرنز بن رہے ہیں جس کو ہم کہتے ہیں افقی (horizontal) اور عمودی (vertical) فلو کا بیک وقت ایکٹو ہو جانا، افقی( horizontal) فلو کا مطلب ہے کہ جو گلیشیئرز پگھلتے ہیں تو سنو میلٹنگ سے دریائی راستوں میں پانی کا بہاؤ تیز کرتی یے لیکن اگر اسکے ساتھ ہی عمودی (vertical) فلو یعنی بارشوں کی بھی شدت زیادہ ہو جائے، یہ دونوں اگر ایک ساتھ ایکٹیویٹ ہو جائیں تو ایک بہت بڑی سیلابی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے بننے والی آفات یا تباہ کاریوں کی فریکوینسی زیادہ ہوگی اور اب ہمارے پاس ایک نہیں مختلف 9 اقسام کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، جن میں فلیش فلڈنگ، اربن فلڈنگ ، لوکل اِننڈیشن سیلاب جس کا مطلب ہے مقامی یا محدود پیمانے پر آنے والا سیلاب ، لوکل اِننڈیشن فلڈ وہ سیلاب ہے جو بارش کے پانی کے جمع ہونے سے کسی مخصوص علاقے میں آ جائے، ریورائن فلڈنگ جسے دریائی سیلاب بھی کہا جاتا ہے ، کوسٹل اسٹارم سرج فلڈنگ یا سادہ الفاظ میں ساحلی طوفانی سیلاب، سی واٹر اِننڈیشن فلڈنگ جسے سادہ الفاظ میں سمندری پانی کا سیلاب کہتے ہیں خطرہ ہے۔
ڈاکٹر طیب نے بات کو اگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان ایسے ریجن پر واقع ہے جس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی بہت سی سیلابی اقسام نہ صرف مون سون بلکہ لیٹ مون سون یا ارلی مون سون میں بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، ڈاکٹر طیب نے یہ بھی کہا کہ اب ہم صرف دریائی سیلابوں کی بات نہیں کرتے ایک نیا کانسیپٹ شروع ہو چکا ہے جس کو ہم کہتے ہیں کلاؤڈ برسٹ جو کہ ایک سیکنڈ میں فلیش فلڈنگ لے کر آتا ہے اور ایک ہی جگہ کو زیر آب کر دیتا ہے کلائمیٹ ایکسپرٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال بونیر، باجوڑ ، مالاکنڈ میں دیکھیں گے اور خدانخواستہ اسلام آباد میں بھی دیکھیں گے کیونکہ اسکا تعلق ہے بڑھتے درجہ حرارت کے ساتھ اور کلاؤڈ برسٹ کے ساتھ ساتھ ٹورینشل رینز یعنی موسلادھار شدید بارشیں ہیں، پھر کلاؤڈ برسٹ کے ساتھ ایک نئی اصلاحات ہے آجکل پاسنگ شاور کی یعنی جب 2 ہوائیں آپس میں ٹکرائیں تو ایک دم تیز شاور ہو اور چند ہی سیکنڈ میں بہت زیادہ بارش ہو جائے
مون سون ابھی ختم نہیں ہوا ابھی ستمبر میں 3 سے 4 سلسلے ہونگے تو کیا سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے ؟ یا مون سون اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں؟
کلائمیٹ ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب نے بتایا کہ توقع کی جا رہی ہے کہ لیٹ مون سون بھی ہو سکتا ہے یعنی اپنی مقررہ مدت سے زیادہ وقت بھی مون سون لے سکتا ہے، مختلف کلائمیٹ ماڈلز کے مطابق ستمبر میں بھی بارشیں ہونگی، ستمبر کی شدت گزشتہ 2 ماہ کی بہ نسبت پہلے 10 دنوں میں تو رہے گی تاہم آہستہ آہستہ مون سون کمزور پڑ جائے گا، مختلف ماڈلز کے ڈیٹا کے مطابق 15 ستمبر تک ہمارے دریائی راستوں میں کافی تیز طغیانی رہے گی، بہاؤ دریاؤں میں تیز رہے گا اور ہمارا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمارے مون سون کو نہ صرف بڑھائے گا یعنی مون سون طویل ہوگا بلکہ اسکی شدت بھی زیادہ ہوگی اتنا ہی نہیں مختلف ماڈلز یہ بھی بتاتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں پیشگوئی ہے کہ ہمارے مشرقی دریا بالخصوص دریائے راوی اب سوکھا ہوا نظر نہیں آئے گا، ہمارے صوبہ پنجاب میں پانی کی آمد ہوگی کیونکہ آنے والے سالوں میں انڈیا کے بھی ہائیدرولک اسٹرکچر پر سٹریس پڑے گا جسکی وجہ سے انڈیا کی بھی کنٹرولڈ ریلیزز نیچے ہونگے یعنی ہائڈرولک ڈھانچے پر دباؤ کے باعث بھارت کو اپنے پانی کے اخراج میں کمی کرنا پڑے گی۔
مہاراشٹرا جو کہ انڈیا کا سینٹرل ریجن ہے وہاں پر ایک ہوا کا کم دباؤ مسلسل گجرات کی طرف بڑھ رہا ہے اور گجرات کے ساتھ ہمارا تھرپارکر لگتا ہے ،ڈاکٹر طیب نے بتایا کہ ہمارا ڈیٹا بتاتا ہے کہ تھرپارکر، ٹنڈو الہیار، ٹھٹھہ ، سجاول، بدین ، ٹنڈو محمد خان، میرپور خاص اور ساتھ ساتھ گھوٹکی اور شکارپور کے ریجن جو کہ ایسٹرن پٹی پر کچھ اضلاع موجود ہیں 6 ستمبر سے 9 ستمبر اور کچھ ماڈلز ان اضلاع میں 10 ستمبر تک بارشیں بتا رہے ہیں ،تھرپارکر میں کچھ جگہوں پر ژالہ باری کی بھی پیشگوئی ہے اور کچھ جگہوں پر گرج چمک کے بادل بننے کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ آسمانی بجلی گرنے کا اندیشہ بھی ہے اتنا ہی نہیں ابھی کچھ بارشوں کا سلسلہ خیبرپختونخوا میں بھی ہے کچھ غیر معمولی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے فلیش فلڈنگ ، لینڈ سلائیڈنگ ، ڈِیبری فلو یا ملبے کا بہاؤ یعنی ایک قدرتی آفت جس میں پانی کے ساتھ مٹی، پتھر، درخت اور بھاری ملبہ تیزی سے پہاڑوں یا ڈھلوانوں سے نیچے بہہ آتا ہے، اور لینڈ سلیپیج یعنی زمین کا سرک جانا جیسے معاملات بھی گلگت بلتستان میں آنے والے دنوں میں ہو سکتے ہیں یعنی گلگت بلتستان میں انے والے دنوں میں حالات مزید حساس ہوسکتے ہیں ،شگر، شیوگ، استور، گلمتھ، بھونی اور ریشن کے مقامات پر دریاؤں میں طغیانی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر طیب نے کہا کہ یہ سلسلہ صرف مون سون کا نہیں مغربی ہواؤں کی آمد کا بھی ہے اور اب بارش بھی ایک نہیں چار چار اقسام کی ہوتی ہے، کلائمیٹ ایکسپرٹ نے کہا کہ ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ خدانخواستہ مون سون کے جاتے ہوئے بھی ہم ایسے نقصانات نہ دیکھیں۔
کلاؤڈ برسٹ کے کتنے واقعات ہوئے ہیں اب تک؟؟ تو اس پر انہوں نے بتایا کہ 9 سے 13 کے درمیان کلاؤڈ برسٹ کے واقعات ہو چکے ہیں تاہم اصل اعدادوشمار کو گننے کے لیے کسی بھی ادارے کے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے نیٹ ورک موجود نہیں ہے، اسکے کے لیے ماڈلز استعمال کیے جاتے ہیں جی ایف ایس یا ای سی ایم ڈبلیو ایف اور اسکے علاوہ کچھ ہائی ریزولوشن ماڈلز ہوتے ہیں جن سے پتہ لگایا جاتا ہے۔
کلاؤڈ برسٹ ، موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت ، انتہائی خراب موسمی حالات سیلاب یہ آئندہ بھی ہوگا اور جیسا کہ ماہرین بھی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ حکومت کی ترجیحات اب کیا ہیں؟ کیا موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات ہونگے یا نہیں؟ کیا ڈیم بنیں گے یا صرف سیاست کے گورکھ دھندے میں ملک کی تباہی کا منظر ہی دیکھیں گے، کب تک کشکول ہاتھوں میں لیے دوسروں سے امداد لیں گے، خدشات اور آئندہ کے حالات تو بتا دیئے اب وقت ہے کہ حکومت اپنے تمام پلانز میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور کم سے کم نقصانات ہوں اسکو اولین ترجیح دے.
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر