ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدالتوں میں اقلیتوں سے ججز تعینات نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت , عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے شہری نصیب مسیح ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتِ پاکستان نے 2009 میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا تھا، لیکن اس کے باوجود اعلیٰ عدالتوں میں اقلیتی ججز کی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ درخواست میں کہا گیا کہ یہ اقدام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 27 اور 36 کی خلاف ورزی ہے، جن میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور نمائندگی کی ضمانت دی گئی ہے۔درخواست گزار کے مطابق، اقلیتوں کے ججز کی تعیناتی کے لیے الگ میرٹ ہونا چاہیے تاکہ ان کی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر اقلیت سے کوئی امیدوار میرٹ پر نہیں آتا تو اسے شاملِ فہرست ہی نہیں کیا جاتا،” جو امتیازی عمل ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اعلیٰ عدلیہ میں اقلیتوں سے ججز کی تعیناتی کے لیے حکومت کو احکامات جاری کیے جائیں تاکہ آئینی اور انسانی حقوق کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App