ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے قیدی کی سزا میں رعایت نہ دینے سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کی رپورٹ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے مؤقف کی روشنی میں قرار دیا کہ قیدی کو اب سزا میں رعایت دے دی گئی ہے۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔عمر قید کاٹنے والے قیدی محمد عرفان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ جیل میں دورانِ قید تعلیم حاصل کرکے میٹرک پاس کر چکا ہے، مگر اسے قانون کے مطابق سزا میں تعلیمی رعایت نہیں دی جا رہی۔سماعت کے دوران آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ "درخواست گزار کو اب میٹرک پاس کرنے کی بنیاد پر سزا میں رعایت دے دی گئی ہے، اور محکمہ نے اس کا ریکارڈ اپڈیٹ کر دیا ہے۔"جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ “ہم نے آئی جی جیل خانہ جات کو طلب کیا تھا، وہ کہاں ہیں؟” جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ “وہ عدالت میں موجود ہیں۔”عدالت نے آئی جی آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ “کیا یہ جواب آپ نے خود لکھوایا تھا؟”آئی جی جیل خانہ جات نے جواب دیا کہ “سر، قیدی جیل میں ان پڑھ آیا تھا، اس نے جیل کے اندر ہی ڈائریکٹ میٹرک کیا۔”جس پر جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ “آپ نے کہا تھا کہ اس کا دوبارہ ٹیسٹ لیں گے، مگر یاد رکھیں کہ آپ سسٹم کو چیلنج نہیں کرسکتے۔ ہماری اور آپ کی ڈگریاں بھی انہی اداروں نے دی ہیں۔”عدالت نے مزید استفسار کیا کہ “امتحان کہاں اور کون لیتا ہے؟”
آئی جی جیل خانہ جات نے وضاحت دی کہ “امتحان جیل میں ہی ہوتا ہے اور بورڈ کا عملہ آ کر امتحان لیتا ہے۔”اس پر جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے: “جیل میں امتحان ہو تو وہاں آپ کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی، لہٰذا ایسی باتیں نہ کریں۔”آئی جی جیل خانہ جات کی وضاحت اور رپورٹ کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ اب قیدی کو میٹرک پاس کرنے پر سزا میں رعایت دے دی گئی ہے، اس لیے مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔ جس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔