ملک اشرف : خاتون کے اغوا اور "جنات لے جانے" کے بیان کا معاملہ , چیف جسٹس عالیہ نیلم کا آئی جی پنجاب کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار ، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر یہی اقدامات وقت پر کرلیے جاتے تو مغویہ شائد بازیاب ہوچکی ہوتی.
چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی ، جس نے اپنی بیٹی فوزیہ کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے ،سماعت کے دوران آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا اور دیگر اعلیٰ افسران اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ “کافی دن گزر گئے، بتائیں اب تک کیا پیش رفت ہوئی؟” جس پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس میں انسانی اسمگلنگ کے پہلو سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے، مختلف صوبوں کی پولیس سے رابطے کیے گئے ہیں، راجن پور سمیت کئی علاقوں میں ٹیمیں بھجوائی گئی ہیں اور سوشل میڈیا و اخبارات میں اشتہارات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ مغویہ کے اہلِ خانہ کے بیانات، فون ریکارڈ اور پولی گرافک ٹیسٹ کروائے گئے، تاہم کسی بھی رشتہ دار کے خلاف جھوٹ ثابت نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ” خاتون ممکنہ طور پر اپنی مرضی سے گئی، سامان باندھ کر گئی تھی، تاہم پولیس یہ پہلو بھی دیکھ رہی ہے کہ کہیں اسے قتل یا فروخت تو نہیں کیا گیا“.
چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمے میں کہا کہ ”یہ وہی خاتون ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے جنات لے گئے؟ اب نئی بات سامنے آئی ہے کہ وہ خود سامان باندھ کر گئی تھی۔ لگتا ہے گھر سے ہی سچ سامنے نہیں آرہا۔“عدالت نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ مغویہ کا نادرا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے: “یہ کیسے ممکن ہے کہ نادرا میں اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں؟ نکاح نامے پر فنگر پرنٹ کیوں نہیں لیے گئے؟”آئی جی پنجاب نے وضاحت کی کہ “نکاح نامے پر انگوٹھا موجود نہیں، خاتون کا بچہ اس وقت نانی کے پاس ہے، جبکہ خاتون کے شوہر اور ساس کے خلاف مقدمہ درج ہے۔”چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ہدایت دی کہ “آئندہ سماعت تک ہر پہلو کو سامنے رکھ کر رپورٹ پیش کی جائے، چاہے مغوی زندہ ہو یا مردہ، عدالت کو مثبت پیش رفت دکھائی دینی چاہیے۔”عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ مغویہ کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں اس کیس میں خاتون فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 2019 میں تھانہ کاہنہ میں درج ہوا تھا، جس میں مغویہ کے شوہر اور ساس کبریٰ کو نامزد کیا گیا۔