ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تقسیم کار کمپنیوں کا بغیر منظوری کے ایم آئی میٹرز تنصیب کا بڑا انکشاف ، نیپرا کا نوٹس

تقسیم کار کمپنیوں کا بغیر منظوری کے ایم آئی میٹرز تنصیب کا بڑا انکشاف ، نیپرا کا نوٹس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک :ملک کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بغیر ریگولیٹری منظوری کے 40 لاکھ سے زائد اے ایم آئی میٹرز نصب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر نیپرا نے نوٹس لے لیا۔

اربوں روپے کے اس سرمایہ کاری منصوبے کے لیے ریگولیٹر سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ منصوبہ پاور ڈویژن کی ہدایت پر شروع کیا گیا۔

حکام کے مطابق ایک عام میٹر کی قیمت پانچ ہزار روپے جبکہ اے ایم آئی میٹر کی قیمت بیس ہزار روپے تک وصول کی جارہی ہے۔ نیپرا میں لیسکو کی مالی سال 2025-26 سے 2029-30 تک کی کثیر سالہ ٹیرف درخواست کی سماعت کے دوران یہ معاملات زیر بحث آئے۔

  لیسکو حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے بعد کمپنی کی ریکوری 30 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم گھریلو صارفین سے وصولی کے مسائل برقرار ہیں۔

حکام کے مطابق 322 ملین روپے کے کٹوتی چارجز میں سے صرف 32 ملین روپے یعنی 10 فیصد وصول کیے جا سکے ہیں۔ نیپرا نے لیسکو ریجن میں 2188 خراب میٹرز کی تبدیلی میں تاخیر اور 7 ارب روپے کی بلنگ میں صرف 1.8 فیصد ریکوری پر بھی سوال اٹھایا۔

  لیسکوحکام نے بتایا کہ زیر التوا درخواستیں آئندہ ماہ تک نمٹا دی جائیں گی۔ ادھر حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے فکسڈ نیٹ ورک استعمال کے چارجز یا گراس میٹرنگ فریم ورک نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

نیپرا نے حیسکو میں پیش آنے والے حادثات اور عوامی غفلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی کو اندرونی تحقیقات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی۔