ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قومی اسمبلی نے قانون سازی میں نمایاں ریکارڈ قائم کر دیا

 قومی اسمبلی نے قانون سازی میں نمایاں ریکارڈ قائم کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:پارلیمانی کارکردگی سے متعلق جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قومی اسمبلی نے اپنے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قانون سازی اور کام کے اوقات کے حوالے سے نمایاں ریکارڈ قائم کیا ہے۔

6 مارچ 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ میں پلڈاٹ (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی) نے قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔

 رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں اسمبلی نے قانون سازی کے میدان میں حالیہ برسوں کی تمام اسمبلیوں کے مقابلے میں زیادہ سرگرمی دکھائی، جبکہ آرڈیننس کے استعمال پر انحصار نسبتاً کم رہا۔ اس دوران ارکانِ اسمبلی کے اثاثوں کو خفیہ رکھنے سے متعلق ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال یکم مارچ 2025 سے 28 فروری 2026 تک جاری رہا۔ اس مدت میں ایوان نے مجموعی طور پر 231 گھنٹے کام کیا، جو حالیہ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی نے 193 گھنٹے کام کیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال میں مجموعی طور پر 84 اجلاس منعقد ہوئے، جبکہ پہلے سال میں اجلاسوں کی تعداد 93 تھی۔ اس طرح اجلاسوں میں تقریباً 9.7 فیصد کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر کا منصب تقریباً پانچ ماہ تک خالی رہا۔ اجلاسوں کے دوران 19 مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے 84 اجلاسوں میں سے صرف 6 میں شرکت کی۔

تقاریر کے لحاظ سے وزیر دفاع خواجہ آصف سب سے زیادہ بولنے والے رکن رہے، جبکہ طارق فضل چوہدری، بلاول بھٹو زرداری، عمر ایوب خان اور گوہر علی خان بھی زیادہ وقت تک خطاب کرنے والے ارکان میں شامل رہے۔