بھارت کی طرف سے بزدلانہ حملہ، پاکستان کی طرف سے سرپرائز ہی سرپرائز

بھارت کی طرف سے بزدلانہ حملہ، پاکستان کی طرف سے سرپرائز ہی سرپرائز
City42 - India

(گلفام خان) بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر بزدلانہ حملہ کر دیامگرپاک فضائیہ نے حملہ ناکام بناتے ہوئے بھارتی فضائیہ کو بھاگنے پر مجبورکردیا۔ بھارتی حملہ بالا کوٹ میں کیا گیا اوراس حملے کے ساتھ ہی خطے میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور بھارت کے اس حملے سے 2 درخت اور ایک کوا شہید ہوا، بھارت کی طاقت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ حملہ 12 جہازوں کے ساتھ کیا مگر پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے، پاکستان کی عسکری اور سول قیادت نے بھارت کو سرپرائز دینے کا اعلان کیا اور بھارت کو خبر دار کیا کہ وہ پاکستان کی طرف سے سرپرائز کا انتظار کرے۔

انڈیا نے 300 دہشت گردوں کی جھوٹی خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ لیکن کوئی ثبوت نہ دے سکے اور پاکستان کو دہشت گرد ملک کہتے رہے انڈین میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور خطے کو جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ اپنی حکومت اور آرمی کو اس بات پر ورغلاتے رہے کہ پاکستان کو لازمی سبق سکھانا چاہیے اور پاکستان پر اس طرح کے اور بھی حملے کرنے چاہیئں اور پاکستان کے سرپرائز دینے والے اعلان کا مذاق بھی بناتے رہے۔

پاکستان نے انڈیا کی طرف سے رات میں کیے گئے حملے کا جواب دن کی روشنی میں دیا اور6 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ پاکستان نے اس بگ سرپرائز میں بھارت کے 2 جہاز مار گرائے 2 پائلٹ ہلاک اور ایک پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا۔ پاکستان کے اس سرپرائز کے بعد انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور مودی سرکار کے خلاف انڈیا ہی میں محاذ کھل گیا اور کئی قسم کے سوالات اٹھنے لگے سابق فوجیوں، صحافیوں سمیت مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سوالات کے انبار لگا دیئے کہ آپ نے پاکستان کے کس علاقے پر حملہ کیا ؟کتنے دہشت گرد مارے؟ اگر مارے تو ان کے ثبوت کہاں ہیں ؟ پاکستان نے سرپرائز دیا ہے تو اسکا ثبوت بھی دیا آپ ثبوت کیوں نہیں دے رہے ؟ کیا یہ سب جھوٹ تو نہیں ؟ آپ نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور پاکستان نے دن کی روشنی میں تو کون ہے طاقتور؟ بھارت نے پہل کی اور پاکستان نے جوابی کارروائی تو کون ہے دہشت گرد ملک؟ کیا مودی لاشوں پر الیکشن جیتنا چاہتا ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب ابھی تک مودی سرکار اپنی عوام کو نہیں دے سکی بلکہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے لگے کہ ہم نے پاکستان کا ایف-16 مار گرایا ہے مگر یہاں بھی کوئی ثبوت نہ دے سکے اور ایک میزائل کے ٹکڑے کو ایف -16 کا حصہ کہتے رہے اس کا بھی انڈین عوام کے سامنے اس وقت پول کھل گیا جب ایک دفاعی تجزیہ کار نے ایک شو میں آکر بول دیا کہ یہ ایف -16 کا ٹکڑا نہیں ۔ بھارت اپنی اس حرکت سے بھی پوری دنیا کے سامنے بدنام ہوا۔دوسری طرف پاکستان نے اپنی عسکری صلاحیت کو منوانے کے بعد امن کی بات کی اور پاکستان کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں آکر پارلیمنٹ کے لوگوں اور عوام کو اعتماد میں لیا اور اس بگ سرپرائز کے بعد ایک بار پھر انڈیا کو مذاکرات کی دعوت دی اور بتایا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا امن چاہتا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اگر جنگ چھڑ گئی تو کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں رہے گی۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا اگر آپ ہمارے ملک میں آکر حملہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی اسکا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں اوریہ بھی واضح کیا کہ ہم بھارت کا مزید نقصان کر سکتے تھے لیکن نہیں کیا کیونکہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔ سول قیادت کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت نے بھی عوام کو اعتماد میں لیا کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن امن خراب نہیں کرنا چاہتے، بھارت کو خبردار بھی کیا کہ بھارت جو بھی کرے گا ہم اسکا جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔

پاکستان نے امن کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے وہ فیصلہ کر دیا جس نے عالمی برادری کو حیران کر دیا اور پاکستان کے کپتان نے کیپٹن اننگز کھیلتے ہوئے پاکستان کا امن کا پیغام ایک شارٹ میں پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا اور ایک میچور لیڈر ہونے کا ثبوت دیا،اور وہ فیصلہ تھا، بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنا، اس فیصلے پر پاکستان کی عسکری ، سول قیادت سمیت اپوزیشن اور عوام نے بھر پور ساتھ دیا پاکستان کے اس عمل سے پوری دنیا پاکستان کی امن کی کوششوں کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکی اس سے یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور انڈیا دہشت گردی۔

عالمی برادری نے بھی امن کے لیے کوششیں کیں، ترک صدر نے پاکستان اور کشمیر کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ایران، سعودی عرب،یو اے ای ،امریکا ، برطانیہ ، روس سمیت کئی ممالک نے کردار ادا کرنے کی پیش کش کی اور اقوام متحدہ نے بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی مگر میرا اقوام متحدہ کو مشورہ ہے کہ وہ کردار صرف اسی صورت میں ادا کر سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداروں کے مطابق حل کرے۔

پاکستان نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے انڈین پائلٹ ابھی نندن کو واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا بھیج دیا لیکن انڈین آرمی نے چھوٹی سوچ کا ثبوت دیتے ہوئے بہت ہی غیر اخلاقی طریقے سے اپنے پائلٹ ابھی نندن کو وصول کیا اور ذرائع کے مطابق اس پر ایک سال کےلئے فلائنگ پابندی لگا دی گئی۔ انڈیا نے اپنے ایئر مارشل کو بھی برطرف کر دیا۔ انڈیا اپنی ناکامی کا غصہ اپنے ہی لوگوں پر نکال رہا ہے وہ کسی بھی طریقے سے خطے کا بادشاہ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے جو کہ صرف اور صرف خواب ہی رہے گا۔

بھارت سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اس نے پاکستان کی عسکری اور سول صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا۔ میرا بھارت کو مشورہ ہے کہ وہ اپنی انتہا پسندانہ سوچ سے باہر آئے اورخطے کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے مگر بھارت کبھی بھی ایسا نہیں کرے گا کیونکہ بھارت کی سوچ ہی چھوٹی ہے اور بھارتی میڈیا بھی اپنا روایتی کردار ادا کرتے ہوئے ہمیشہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا رہے گا لیکن ایک بات واضح کرتا جاؤں کہ بھارت اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ایک دن بھارت کو منہ کی کھانا پڑے گی اور پھر بھارت بھارت نہیں رہے گا، کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا اور ہم سرپرائز پر سرپرائز دیتے رہیں گے۔

عالمی برادری کو مشورہ یہ ہے کہ اگر وہ سچ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم کرنے سے روکیں ۔ ابھی تک لاکھوں کشمیری آزادی کے لیے جان قربان کر چکے ہیں اور آخر کب تک کشمیر پر انڈیا اپنا قبضہ رکھ سکتا ہے ؟ ایک نہ ایک دن کشمیر نے آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بننا ہے کیو نکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔

میں پاکستان کی عسکری قیادت ، سول قیادت ، اپوزیشن اور عوام کو سلیوٹ کر تا ہوں جنھوں نے پاکستان پر آئے اس نازک وقت کو بہت ہی متحد ہو کر گزارا اور صرف پاکستانی بن کر سوچا۔

گلفام خان