ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا ایران کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل، امریکی حملوں کے بعد ایران کے جوابی وار کا دعویٰ

امریکا ایران کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل، امریکی حملوں کے بعد ایران کے جوابی وار کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں اور جوابی اقدامات کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران کے گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی چار ایرانی ڈرونز کی سرگرمیوں اور بحری راستوں کو درپیش خطرات کے جواب میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی سمت داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو بھی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنایا گیا، جبکہ کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی فوج نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کو وارننگ فائر کیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ چار ایسے آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی جو مبینہ طور پر اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

ادھر امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے سات میزائلوں میں سے چھ کو راستے میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کا فضائی دفاعی نظام ہفتے کے روز میزائلوں اور ڈرونز کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر متحرک رہا، جبکہ بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی ملک میں خطرے کے سائرن بجانے اور فضائی انتباہ جاری کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

علاوہ ازیں امریکی فوج نے بحرِ ہند میں "ڈاوینا" نامی بغیر پرچم کے ایک تیل بردار جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پابندیوں کی زد میں تھا۔

امریکا اور ایران کے متضاد دعوؤں کے باعث صورت حال مسلسل کشیدہ ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی خدشات اور عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔