افشاں رضوان: شہر میں جاری شدید گرمی اور سورج کی تیز تپش کے باعث سن گلاسز، ٹوپیاں اور صافہ شہریوں کی روزمرہ ضرورت بن گئے ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی شہر بھر کے فٹ پاتھوں اور اہم شاہراہوں پر سن گلاسز اور ٹوپیوں کے عارضی سٹالز بھی سج گئے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق سورج کی تیز شعاعوں سے آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کالے اور براؤن رنگ کے سن گلاسز کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری بڑی تعداد میں مختلف ڈیزائنز کے چشمے اور ٹوپیاں خرید رہے ہیں تاکہ گرمی کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چشمے اور ٹوپیاں اب صرف دھوپ سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ فیشن کا بھی اہم حصہ بن چکے ہیں۔ نوجوانوں سمیت مختلف عمر کے افراد جدید طرز کے سن گلاسز اور ٹوپیاں استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
موٹر سائیکل سوار شہریوں کے مطابق شدید گرمی میں سفر کے دوران صافہ اور سن گلاسز ہی ان کا سب سے بڑا سہارا ہیں، جو نہ صرف دھوپ بلکہ گرم ہواؤں اور گردوغبار سے بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت کے دوران شہری دھوپ میں نکلتے وقت حفاظتی اقدامات اختیار کریں، سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور آنکھوں کے تحفظ کے لیے معیاری سن گلاسز کا استعمال کریں۔