ملک اشرف:لاہور ہائی کورٹ نے صوبہ پنجاب میں پراپرٹی اور اراضی پر قبضوں کے بڑھتے ہوئے مقدمات کے تیز رفتار فیصلوں کے لیے بڑا عدالتی اقدام کرتے ہوئے 36 اضلاع میں خصوصی ٹربیونلز نامزد کر دیے ہیں۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی منظوری سے کیا گیا ہے، جنہوں نے ایڈیشنل ججز کو بطور ٹربیونل نامزد کرتے ہوئے ان کی فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان ٹربیونلز کے قیام کا مقصد پراپرٹی تنازعات اور قبضے کے مقدمات کو جلد نمٹانا ہے تاکہ شہریوں کو طویل عدالتی کارروائی سے نجات مل سکے۔
ان ٹربیونلز کو اختیار حاصل ہوگا کہ اگر کسی مقدمے میں اراضی پر قبضہ ثابت ہو جائے تو وہ 3 سے 10 سال تک قید کی سزا سنا سکیں گے۔
پنجاب حکومت کی منظوری کے بعد اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے بعد یہ ٹربیونلز باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کریں گے۔
یہ اقدام صوبے میں پراپرٹی تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔