ریسکیو 1122، کرپشن کی غضب کہانی

ریسکیو 1122، کرپشن کی غضب کہانی

(عرفان ملک) ریسکیو  1122 پنجاب میں کرپشن کی غضب کہانی، ریسکیو اکیڈمی میں لاکھوں روپے کی خوردبرد کے الزامات انکوائری رپورٹ میں ثابت ہو گئے، افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق اکیڈمی میں نصب جنریٹر میں چھپن لاکھ روپے ڈیزل کی مد میں خوردبرد کی گئی تھی، ہوم ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات سے قبل ہی ڈی جی ریسکیو نے افسران و ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے تھے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ من پسند افسران کو بچانے کے لئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایکشن سے قبل ہی شوکاز نوٹس جاری کئے گئے، رجسٹرار اکیڈمی ڈاکٹر فرحان خالد، ڈپٹی ڈائریکٹر آر اینڈ ایم انجینئر شکیل احمد اور الیکٹرک ٹیکنیشن عرفان حسن کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ۔ ڈاکٹر فرحان خالد سالہا سال سے ہیڈ آف پرکیورمنٹ تعینات رہے ہیں جس کی وجہ سےریسکیو میں کروڑوں روپے کی خریداری مشکوک ہو گئی ہے۔ اسی طرح انجینئر شکیل کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سولہ جون کو ذاتی شنوائی کے لئے طلب کر لیاگیاہے۔

یاد رہے  قبل ازیں ریسکیو 1122 ہیڈکوارٹرز میں پچاس لاکھ روپے فیول کے نام پر بدعنوانی کا انکشاف ہوا سرکاری دستاویزات سے ہوا، سرکاری دستاویزات کے مطابق اکیڈمی کے جنریٹر اپریل کے مہینے میں چھ لاکھ اسی ہزار سے زائد، مئی میں چھ لاکھ بیالیس، جون میں سات لاکھ تہتر ہزار کا فیول پی گیا،اسی طرح جولائی میں نو لاکھ چوبیس، اگست میں چھ لاکھ چون، اور ستمبر میں چار لاکھ سے زائد کا فیول نگل گیا۔ ڈی ڈی ریسکیو ڈاکٹر محمد اعظم کی رپورٹ کے مطابق ایس ڈی او واپڈا جوہر ٹاؤن لیسکو نے بھی تصدیق کی  کہ فیول کے خرچ میں لاکھوں کی خرد برد ہوئی ہے کیونکہ ان مہینوں میں لوڈ شیڈنگ بھی شیڈول سے کم ہوئی۔