سابق صدر آصف زرداری فرد جرم لگنے سے بچ گئے

سابق صدر آصف زرداری فرد جرم لگنے سے بچ گئے

سٹی 42:سابق صدر آصف علی زرداری فرد جرم لگنے سے بچ گئے۔پارک لین ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور انور مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ایک بار پھر مؤخر کردی گئی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی جس سلسلے میں آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور سابق صدر کو بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرکے ان کی حاضری لگوائی گئی۔اس موقع پر آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے سابق صدر پر فرد جرم عائد نہ کرنے کے لیے درخواست دائر کردی جس پر عدالت نے ایک بار پھر زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کردی جب کہ آئندہ سماعت پر آصف زرداری کی متفرق درخواست پر نیب جواب داخل کرے گا۔

فاروق نائیک کے درخواست دائر کرنے پر جج اعظم خان نے کہا کہ آپ کو چاہیے تھا کہ یہ درخواست پہلے دائر کرتے، اب فرد جرم عائد کرنے کے لیے ویڈیو لنک کے انتظامات مکمل کرلیےگئے ہیں۔ فاروق نائیک کی درخواست پر ڈپٹی نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ آپ اس درخواست پر ہمیں نوٹس جاری کریں، ہم آج ہی آدھے گھنٹے میں بحث کریں گے۔ آصف زرداری کے وکیل نے کہا کہ پراسیکیوٹر کو اس کیس میں اتنی جلدی کیا ہے؟ اس کے علاوہ بھی بہت سے کیسز ہیں، اس کیس میں جلدی کیوں ہے؟ ہمیں مناسب وقت دیا جائے، ایک ماہ کا اسٹے آرڈر نہیں مانگ رہا، وکیل صفائی اپنی درخواست دائر کر کے خود وقت مانگ رہے ہیں۔

اس موقع پر جج اعظم خان نے ریمارکس دئیے کہ  اس ریفرنس کو دائر ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔دورانِ سماعت فاروق نائیک نے آصف زرداری کو ویڈیو لنک کے ذریعے بتایا کہ ہم نے درخواست دی ہے فردجرم عائد نہیں ہو سکتی، اس پر سابق صدر نے استفسار کیا کہ اس کا اب پراسیس کیا ہو گا ؟  فاروق نائیک نے بتایا کہ پہلے ہماری درخواست پر فیصلہ ہوگا اور بعد میں عدالت فرد جرم عائد کرنےکا بتائےگی۔بعد ازاں عدالت نے پارک لین ریفرنس کی مزید سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ پارک لین کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور انور مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ میں کئی بار توسیع کی گئی ہے جب کہ سابق صدر طبی بنیادوں پر ضمانت کے بعد کراچی میں موجود ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے۔آصف زرداری پر پارک لین کمپنی اور اس کے ذریعے اسلام آباد میں 2 ہزار 460 کنال اراضی خریدنے کا الزام ہے۔