علی رامے: پنجاب میں گرین بیلٹس اور پارکوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا جانے والا نیا ادارہ شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبے کے 21 اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں تو قائم کر دی گئی ہیں، تاہم ان کے لیے تاحال مستقل بجٹ کی منظوری نہیں دی جا سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ان ایجنسیوں کو چلانے کے لیے سالانہ تقریباً 14 ارب روپے درکار ہوں گے، لیکن فنڈنگ کے لیے کوئی واضح اور مستقل بندوبست موجود نہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ ہاؤسنگ کی ترقیاتی سکیموں سے رقم کاٹ کر ہارٹیکلچر ایجنسیوں کو دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
ابتدائی طور پر ہر نئی ایجنسی کو 25 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق یہ رقم صرف چند ماہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہے۔ کئی شہروں میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں مستقل سربراہ کے بغیر چل رہی ہیں جبکہ بھرتیوں پر پابندی کے باعث سٹاف کی شدید کمی کا بھی سامنا ہے۔
اس کے علاوہ وائس چیئرمین کی تقرری نہ ہونے سے ادارے کی قیادت بھی تاحال نامکمل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت مزید اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیوں کے قیام کا منصوبہ بنا رہی ہے، لیکن پہلے سے قائم ادارے ہی مالی دباؤ اور انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔