سٹی42: لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے پی ٹی آئی کی مینارپاکستان پرجلسے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی 8 فروری کو جلسہ کرنے کی درخواست کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس مین سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی یا کسی بھی سیاسی جماعت کو آٹح فروری کو لاہور مین کسی بھی نوعیت کے اجتماع کی اجازت دینے کو خارج از امکان قرار دیا گیا۔
8 فروری کو غیر ملکی ٹیم کے اہم کرکٹ میچ اور انٹرنیشل اسپیکرکانفرنس کے ساتھ لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو بھی شروع ہو رہا ہے، اس سلسلے میں سکیورٹی پر ہزاروں اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔ ان ایونٹس کی سکیورٹی برقرار رکھنے کے لئے عوام کی غیر ضروری نقل و حرکت کا کوئی نیا موقع مہیا کرنا سکیورٹی کے مسلمہ طریقہ کار کے خلاف ہو گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بعد میں پی ٹی آئی کی قیادت کو آگاہ کر دیا کہ انہین لاہور مین جلسہ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج نے بھی آج پی ٹی آئی کے جلسہ کی اجازت کے متعلق درخواست کے ضمن میں ڈپٹی کمشنر کو آج ہی کوئی فیصلہ کر کے متعلقہ درخواست گزار کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے کل آٹح فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان تو کئی ہفتے پہلے سے کر رکھا ہے لیکن پنجاب بھر مین مینار پاکستان سمیت کہیں بھی کوئی جلسہ، جلوس، ریلی کرنے کی کوئی عملی منصوبہ بندی چھ فروری کی رات تک نہیں کی گئی تھی۔
مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت نہ دیئے جانے کے بعد پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کی یہ ہدایت پی ٹی آئی عہدیداروں کو موصول ہوئی کہ شمالی پنجاب کے دس ضلعوں کے عہدیدار اور کارکن تو 8 فروری کو جلسہ میں شرکت کے لئے خیبر پختونخوا کے شہر صوابی جائین گے، باقی پنجاب میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر مقامی لیدر از خود احتجاجی ریلیاں نکالیں گے۔ چیف آرگنائزر کی یہ ہدایت چھ فروری جمعرات کی رات کو سامنے آئی۔ پی ٹی آئی کے عہدیداروں کے پاس مقامی سطح پر ریلیاں نکالنے کے لئے تیاری کرنے کے لئے صرف آج سات فروری کا دن ہے۔ متعدد شہروں میں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر احتجاجی ریلی نکالنا عملاً ناممکن ہے۔