لاہور ہائیکورٹ آئی جی پنجاب انعام غنی  کی کارکردگی پر برہم

لاہور ہائیکورٹ آئی جی پنجاب انعام غنی  کی کارکردگی پر برہم
IG inam ghani

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ میں اندراج مقدمہ کے  احکامات پرعمل درآمد  نہ ہونے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ,آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی ذاتی حیثیت میں  عدالت پیش, جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے آئی جی پنجاب انعام غنی  کی کارکردگی پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے ریمارکس دئیے  وہ پولیس کارکردگی سے مطئمن نہیں۔تفتیشیوں کی نااہلیوں کی وجہ سے ملزمان کی ضمانتیں ہوجاتی ہیں تو کہتے ہیں عدالتیں چوروں ڈاکوؤں کی ضمانتیں لے رہی ہے۔

جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے شہری علی اکبر  اور حسن علی سمیت دیگر  کی درخواستوں پر سماعت کی۔ آئی جی پنجاب انعام غنی ، سی سی پی او غلام محمود ڈوگر ،ڈی آئی جی اہریشنز ساجد کیانی ،ڈی پی او قصور عمران کشور ، ڈی پی او شیخوپورہ مبشر میکن، ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر سمیت دیگر پولیس افسران   جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے طیب جعفری ایڈوکیٹ سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے۔

درخواست گزار وکلاء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس نے اندراج مقدمہ کا حکم دیا، پولیس نے عمل درآمد نہیں کیا۔ استدعا ہے کہ عدالت پولیس کو جسٹس آف ہیس کے حکم پر عمل درآمد کا حکم دے۔  جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے آئی جی پنجاب انعام غنی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت  آپ کی کارکردگی سے بالکل مطمن نہیں ۔ تفتیشیوں کو طلب کرتے ہیں وہ بروقت آتے نہیں، آئین تو قانون کے مطابق شناخت پریڈ سمیت دیگر قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

عدالت کہتی ہے مقدمہ کرو تو وہ کرتی نہیں، ایف آئی آر درج  نہ کرنے  کا کہیں  تو کر دیتی ہے۔ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی پنجاب سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید ریمارکس دئیے کہ عدالت پولیس کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہے۔آئی جی پنجاب نے جواب دیا پولیس  اور تفتیشی نظام کی بہتری کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔

عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے افسران کو خصوصی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے آئی جی سے کہا عدالتی احکامات ہر  بروقت عمل درآمد نہیں ہوتا۔  اس پر توجہ دیں۔اچھے افسران کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔