عدلیہ پر تنقید: وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست 

imran khan
imran khan

(ملک اشرف)عوام سے براہ راست ٹی وی پرگفتگو میں عدلیہ پر مبینہ تنقید کامعاملہ، لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم کے عدلیہ مخالف پروگرام  کیخلاف  درخواست پر  سماعت،عدالت نے درخواست  گزار وکیل کو آئندہ سماعت پر  درخواست کے قابل سماعت ہونے بارے دلائل دینے کی ہدایت کردی۔

جسٹس علی باقرنجفی  نے مقامی وکیل کی درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزار وکیل نے وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری،سیکرٹری اطلاعات ، چئیرمین پیمرا سمیت دیگرز  کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 4اپریل کو وزیراعظم نے ٹی وی پرعوام کوسوالات کے جوابات دیئے۔

وزیراعظم نے گفتگو میں عدلیہ کومبینہ تنقید کانشانہ بنایا،وزیراعظم کا بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے۔ نیب کی ناقص تفتیش کا ذمہ دار عدلیہ کوٹھہرانےکی کوشش کی ،وزیراعظم کے الفاظ آرٹیکل 204 ، 68اور114کی خلاف ورزی  ہیں۔ درخواستگزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت عدلیہ مخالف  پروگرامز پر ہابندی کا حکم دے ۔

 لاہور ہائی کورٹ میں سردار فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری کے ساتھ ساتھ سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی وی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 4 اپریل 2021 کو پی ٹی وی سے لائیو پروگرام نشر کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔

وزیراعظم نے مذکورہ پروگرام میں عدلیہ مخالف بیان دیا اور پیغام کے ذریعے عدلیہ کے ججوں پر نواز شریف سے تعلقات کا الزام لگایا۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے نیب کی ناقص تفتیش کا ذمے دار ججز کو ٹھہرانے کی کوشش کی۔وزیر اعظم نے اپنے الفاظ سے آئین کے آرٹیکل 204 کی خلاف ورزی کی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔عمران خان آرٹیکل 68 اور 114 کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے جو حتیٰ کے پارلیمنٹ میں بھی عدلیہ کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات کی ممانعت کرتے ہیں۔اس طرح کے طرز عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ معزز ججز کے وقار کو بحال رکھا جا سکے۔

درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ ماضی میں توہین عدالت پر متعدد بار اسٹیک ہولڈرز کو سزا ہوئی۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرفہرست ہیں جنہیں اس وقت سزا ہوئی جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم کو مستقل طور پر عدلیہ اور معزز ججز کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات دینے سے روکا جائے اور اس طرح کا توہین آمیز مواد نشر کرنے ان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے وضاحت بھی طلب کی جائے۔