پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا لگ گیا

(ملک اشرف) حلقہ این اے 133 کا ضمنی الیکشن، الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کابڑا فیصلہ، پی ٹی آئی کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور انکی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ کی اپیلیں خارج کردیں۔

جسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل اپیلٹ ٹربیونل نے جمشید اقبال چیمہ اور انکی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ کی اپیلوں پر سماعت کی، جمشید اقبال چیمہ کے وکیل مبین الدین قاضی، رانا عبدالشکور اور اعتراض کنندہ مرزا فیصل کی جانب سے بیرسٹر احمد قیوم پیش ہوئے، بیرسٹر احمد پرویز اور جمشید اقبال چیمہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، اعتراض کنندہ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ کےتجویز کنندگان حلقہ این اے 130 کے ووٹر ہیں، ووٹر لسٹ کے مطابق بھی 2018 میں ووٹ این اے 130 میں تھا،جسٹس شاہد جمیل خان نے الیکشن کمیشن کے نمائندے سے استفسار کیا کہ بتائیں ووٹ سرٹیفکیٹ پر این اے کا نمبر کیوں نہیں آتا۔

وکیل نے بتایا کہ اس پر شماریاتی بلاک کوڈ موجود ہوتا ہے، جسٹس شاہد جمیل خان نے استفسارکیا کہ  اسکی کوئی قانونی وضاحت موجود ہے؟ وکیل نے جواب دیا نادرا سے جو ڈیٹا آتا ہے اس کے مطابق فہرست تیار ہوتی ہے۔

وکیل مسرت جمشید چیمہ نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ تجویز کنندہ کے شناختی کارڈ کے مطابق وہ حلقہ این اے 133 سے تعلق رکھتا ہے،2018 میں ووٹ ڈیلیٹ کیا گیا۔

جسٹس شاہدجمیل خان نےاستفسار کیاووٹ کب ڈیلیٹ ہوا،وکیل جواب نہ دے سکا، جسٹس شاہد جمیل خان نے کہا کہ آپ کو یہ ہی معلوم نہیں کہ ووٹ کب ڈالا، جمشید اقبال چیمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تجویز کنندگان کا شناختی کارڈ کے متعلق ووٹر حلقہ این اے 133 بنتا ہے، ٹربیونل نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اپیلیں خارج کردیں۔