( عمر اسلم ) مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے پہلے ہی دھڑے بندی، کوئی اہم رہنما آؤٹ تو کوئی تگڑی سفارش پر اِن، رانا مشہود کو سٹوڈنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینئر سے ہٹانے کی وجہ سامنے آگئی۔
پی ڈی ایم کا مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں تیرہ دسمبر کو ہونے والے جلسے سے قبل یہ مسلم لیگ (ن) میں کمیٹیوں کے حوالے سے گروپ بندی شروع ہوگئی ہے۔ کوئی رہنما کسی کمیٹی سے آؤٹ ہورہا ہے تو کوئی کمیٹی میں شامل ہورہا ہے۔ سٹوڈنٹس کمیٹی کا آرگنائزر مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود احمد خان کو بنایا گیا تھا لیکن ایک دن بعد مسلم لیگ (ن) پنجاب کی تنظیم کے سب سے اہم عہدیدار کی سفارش پر رانا مشہود کو سٹوڈنٹس کمیٹی کے کنوئنیر سے ہٹا دیا گیا اور صدر ایم ایس ایف رانا ارشد کو کنوئنیر بنا دیا گیا۔
سابق ڈپٹی مئیر میاں طارق بھی پہلے کمیٹی میں شامل نہیں تھے لیکن نام شامل نہ ہونے پر صدر مسلم لیگ (ن) پنجاب رانا ثنااللہ سمیت دیگرعہدیداران کو فون کرکے جلسہ کی ناکامی کی بددعائیں دینا شروع کردیں جس پر انہیں پنڈال کمیٹی میں شامل کیا گیا۔
جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے شہر سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز سے بھی پارٹی فنڈ وصول کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شہر سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی اور ایم این اے کے ٹکٹ ہولڈرز سے تین تین لاکھ روپے لیے جائیں گئے۔ ایم پی اے اور پی پی ٹکٹ ہولڈرز سے دو دو لاکھ روپے پارٹی فنڈ وصول کیا جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے حاصل ہونے والی رقم جلسے کے اخراجات پر لگائی جائے گی۔ سابق میئر لاہور کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید جلسہ کے اخراجات کی مد میں ایک لاکھ روپے پارٹی فنڈ میں جمع کروائیں گے۔ سابق ڈپٹی میئرزسے بھی پچاس پچاس ہزارروپے وصول کیے جائیں گئے۔