ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے ملزم خان محمد کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ میں گواہوں کے پیش نہ ہونے، اور متعلقہ ایس ایچ او و تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پر ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے، عدالت نے ٹرائل کورٹ کو کیس کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہارون الرشید کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ،جسٹس فاروق حیدر نے ایس ایس پی آپریشنز سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا وہ ڈی آئی جی آپریشنز ہیں؟ جس پر ایس ایس پی نے جواب دیا کہ وہ کورس پر موجود ہیں ، ڈی آئی جی آپریشنز کا اضافی چارج میرے پاس ہے، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ میں گواہان کے بار بار ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے باوجود وہ پیش کیوں نہیں ہو رہے۔ جسٹس فاروق حیدر نے ایس ایس آپریشنز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا “یہ رپورٹ پڑھیں، آخر گواہان ٹرائل کورٹ میں کیوں پیش نہیں ہو رہے؟” ٹرائل کورٹ کو بار بار گواہوں کے خلاف وارنٹ جاری کرنے پڑے، اس کے باوجود پیشی نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ کیا قانون یا پولیس رولز بدل گئے ہیں؟
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سرکاری گواہوں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود وہ اپنی ڈیوٹی بھی انجام دے رہے ہیں مگر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ “کیا یہ قانون کا مذاق بنانے کے مترادف نہیں؟ ڈی آئی جی، ایس ایس پی، ایس ایچ او اور تفتیشی افسران کی ذمہ داری کیا ہے؟”اس پر ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر کچھ گواہان پیش ہوئے تھے اور آئندہ اس معاملے کو بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم عدالت نے اس وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر اور ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی، جس پر ایس ایس پی نے یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ اس صورتحال سے واضح ہے کہ ادارہ جاتی ذمہ داریاں پوری نہیں کی جا رہیں اور سسٹم پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو حکم دیا کہ تمام گواہان کو سات مئی کو ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جائے۔ ، دو رکنی بینچ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ مقدمے کا ٹرائل ہر صورت ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔بعد ازاں عدالت نے ملزم خان محمد کی درخواست ضمانت نمٹا دی۔ملزم کے خلاف تھانہ لاری اڈہ میں 1960 گرام چرس برآمد ہونے کا مقدمہ درج ہے۔