ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیر اعظم کل توانائی بچت اقدامات کی حتمی منظوری دیں گے 

وزیر اعظم کل توانائی بچت اقدامات کی حتمی منظوری دیں گے 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وزیر اعظم کل توانائی بچت اقدامات کی حتمی منظوری دیں گے ۔ جس میں آن کلائن کلاسز،  دفتری اوقات میں کمی اور گھر سے کام کرنے کی تجویز شامل ہے ۔

ماضی کے قومی ہنگامی اقدامات کی روشنی میں توانائی بچت کے لیے مرحلہ وار اقدامات پر غور  شروع ہوگیا۔ کورونا وائرس کے دوران اٹھائے گئے اقدامات پر عملدرآمد کی تجویز  دی گئی ۔ ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت کی تجویز  دی گئی ۔ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کی تجویز  اورغیر ضروری نقل و حرکت روکنے کے اقدامات پر غور  کیا جارہا ہے جبکہ دفاتر میں ضروری اسٹاف کی حاضری کی تجویز  دی اوردفاتر میں دفتری اوقات میں کمی کی سفارش بھی کی گئی ۔ 

دوسری جانب وزیر خزانہ کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی اپنی سفارشات اور جامع عملدرآمد منصوبہ کل وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی ۔

 وزارت خزانہ  کے مطابق کمیٹی صورتحال کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ضرورت پڑنے پر ترجیحی شعبوں کے تحفظ کے ساتھ طلب کے مؤثر انتظام کے لیے ہنگامی آپشنز پر غور کیا۔ ماضی کے قومی ہنگامی اقدامات کی روشنی میں ایندھن کی بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،  عوام میں غیر ضروری تشویش پیدا نہ ہو۔ اجلاس میں ملک کی توانائی صورتِ حال اور دستیابی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں ۔ملک میں فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ نہیں۔ خطے اور عالمی منڈی میں بدلتی صورتحال کے باعث مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق شرکاء کو عالمی آئل مارکیٹ کی صورتحال، بین الاقوامی بنچ مارکس میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافے، بحری راستوں کے خطرات اور اہم گزرگاہوں پر ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ عالمی منڈی میں “وار پریمیم” اور ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کے لیے بڑھتی مسابقت سے بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اجلاس میں متبادل ذرائع سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی فراہمی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں محفوظ بندرگاہوں اور متبادل بحری راستوں کے استعمال پر غور کیا گیا ۔دوست ممالک سے سفارتی و تجارتی روابط کے ذریعے اضافی سپلائی یقینی بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے ایل این جی اور ایل پی جی کی فراہمی، شپمنٹس اور ٹرمینل آپریشنز کا بھی جائزہ لیا ۔ قومی شپنگ استعداد سے فائدہ اٹھانے اور بروقت برتھنگ کی سہولت فراہم کرنے جیسے انتظامی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ منڈی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور اسمگلنگ کی روک تھام پر زور دیا گیا۔اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں، اوگرا اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے سخت نگرانی اور کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانا ہے۔  صورتحال کی روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ، مختلف امکانات کے مطابق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔مربوط فیصلوں کے ذریعے ذمہ دارانہ انداز میں امور نمٹائے جا رہے ہیں۔  اگر عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث دباؤ پیدا ہوا تو حکومت طے شدہ اور شفاف طریقہ کار کے تحت اقدامات کرے گی ۔