علی ساہی: ڈرائیونگ لائسنس کے ٹیسٹ کے عمل کو شفاف بنانے اور سفارشی کلچر و کرپشن کے خاتمے کیلئے جدید اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ٹریفک حکام کے مطابق ڈرائیونگ ٹیسٹ کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ گاڑیوں کی خریداری آخری مراحل میں ہے۔
حکام کے مطابق 44 آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ گاڑیاں خریدی جا چکی ہیں جو آئندہ ہفتے ٹریفک ہیڈ کوارٹر پہنچ جائیں گی۔ ابتدا میں گاڑیوں کی تعداد کم رکھی گئی تھی تاہم بعد میں اسے بڑھا کر 44 کر دیا گیا۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ ہر گاڑی کی خریداری پر تقریباً 48 لاکھ روپے خرچ آئے ہیں جبکہ دیگر آلات کی تنصیب پر 4 سے 5 لاکھ روپے تک اضافی اخراجات ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق ٹریفک ہیڈ کوارٹر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ وہیکل کے حتمی ٹیسٹ بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان جدید گاڑیوں میں سینسرز، کیمرے اور بائیومیٹرک مشینیں نصب کی جائیں گی تاکہ ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل کو مکمل طور پر خودکار اور شفاف بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب روایتی مینول ٹریک کے بجائے جی پی ایس بیسڈ ٹریک پر ڈرائیونگ ٹیسٹ لیے جائیں گے جس سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور ٹیسٹ کا نظام زیادہ مؤثر بنے گا۔
ٹریفک حکام کے مطابق لاہور کے تمام ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سینٹرز کو مرحلہ وار آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔