ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کی بنگلہ دیش میں دراندازی کی10کوششیں،سرحد پر کشیدگی میں اضافہ

بھارت کی بنگلہ دیش میں دراندازی کی10کوششیں،سرحد پر کشیدگی میں اضافہ
کیپشن: File photo
سورس: Human rights watch
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش نے بھارت پر الزام عائد کیا ہےکہ اس نے گزشتہ24گھنٹوں میں  بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرانے کی 10 مرتبہ کوشش کی ہے، اس واقعہ کے بعد  بھارت بنگلہ دیش سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے،بھارتی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی عمل کے زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا جاتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) نے بتایا کہ اس نے4000 کلومیٹر سے زیادہ طویل بھارت- بنگلہ دیش سرحد کے مختلف حصوں پر  بھارتی حکام کی10 در اندازی کی کوششوں کا پتہ لگایا۔ یہ سرحد دنیا کی طویل ترین اور سب سے مشکل نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک ہے۔بی جی بی نے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دو طرفہ سمجھوتوں اور بین الاقوامی سرحدی انتظامی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہر کوشش کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق  یہ الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) غیر دستاویزی نقل مکانی کے خلاف ایک مہم چلائی  ہے۔ حال ہی میں بھارت کی  وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے قومیت کی تصدیق کے لی2680 سے زائدمعاملات بنگلہ دیش کو بھیجے ہیں۔مغربی بنگال، آسام اور تری پورہ جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں حکام پر الزام ہے کہ وہ نام نہاد ‘غیر قانونی دراندازوں  کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش بارڈر گارڈ  نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی سرحدی سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے جھینایدہ میں جیل کی گاڑی کے ذریعے30سے 35 افراد کو بنگلہ دیشی علاقے میں دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن بی جی بی کی مزاحمت کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے۔اسی طرح جشور، جئے پور ہٹ، چاپائے نواں گنج، ٹھاکُر گاؤں، پنچ گڑھ، سلہٹ اور نیتروکونا میں بھی مبینہ دھکیلنے کی کوششیں درج کی گئیں۔

ان واقعات کے بعد بنگلہ دیش بارڈر گارڈ  نے اپنی نگرانی اور سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ جبکہ ڈھاکا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کو زبردستی سرحد پار کرنے کے بجائے سفارتی اور قانونی طریقہ کار کے تحت واپس بھیجا جائے۔تاہم یہ معاملہ8ے 11جون تک نئی دہلی میں بی ایس ایف اور بی جی بی کے درمیان ہونے والے ڈائریکٹر جنرل سطح کے مذاکرات میں اہم ہوگا۔

واضح رہے کہ  بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد دراندازی کے واقعات بڑھے تو ڈھاکا مناسب جواب دے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ  بھارت میں اسے ‘پش بیک’ کہا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش ‘پش ان’ کا الزام لگاتا ہے۔مزید برآں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی حکومت پر تنقید کی ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ کارروائیاں امتیازی اور غیر آئینی ہیں۔ متعدد شکایات میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بنگالی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر سرحد پار دھکیل دیا، حالانکہ ان کے پاس درست شناختی دستاویزات موجود تھیں۔