ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے گھریلو تنازعے سے جڑے فراڈ اور امانت میں خیانت کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملزم ڈاکٹر محمد عمیر ریاض کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت کنفرم کر دی۔ عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض درخواست گزار کو ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے درخواست ضمانت پر پانچ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ جہیز سے متعلق معاملات پر فیملی کورٹ کو خصوصی اختیار حاصل ہے اور ایسے معاملات میں متوازی فوجداری کارروائی بادی النظر میں کئی قانونی سوالات کو جنم دیتی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ازدواجی اختلافات اور گھریلو تنازعات کے تناظر میں جھوٹے مقدمات کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے کے مطابق صرف "امانت" کا لفظ استعمال کر دینا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 406 کے اطلاق کے لیے کافی نہیں، بلکہ استغاثہ کو امانت سپرد کیے جانے اور اس میں خیانت کے بنیادی عناصر بھی ثابت کرنا ہوتے ہیں۔
عدالت کے روبرو یہ بات سامنے آئی کہ درخواست گزار کی اہلیہ کی جانب سے دائر فیملی سوٹ اور فوجداری مقدمے کے مؤقف میں تضاد پایا جاتا ہے۔ مزید برآں متنازع گاڑی پہلے ہی فیملی کورٹ میں جہیز کے سامان کے طور پر زیر سماعت ہے، جس سے معاملے کی نوعیت خاندانی تنازعے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ شکایت کنندہ نے ایف آئی آر درج کرواتے وقت زیر التوا فیملی مقدمے کا ذکر نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متنازع گاڑی تاحال شکایت کنندہ کے نام پر رجسٹرڈ ہے جبکہ مبینہ جعلی رسید پہلے ہی پولیس کی تحویل میں موجود ہے، اس لیے مزید کسی ریکوری کی ضرورت باقی نہیں رہی۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے اختیارات کے غلط استعمال، تفتیش میں عدم تعاون یا انصاف سے فرار ہونے کا خدشہ ظاہر ہو۔
ان حالات میں قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے قانونی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔عدالت نے تمام حقائق اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر محمد عمیر ریاض کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے کو ازدواجی تنازعات، جہیز کے دعووں اور ان سے جڑے فوجداری مقدمات کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔