ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لائن آف کنٹرول نہیں سیز فائر لائن، شملہ معاہدہ ردی کی ٹوکری میں!

Simla Agreement, Z A Bhutto and Indra Gandhi, City42 , Indus Water Accord . MAy ۱۰ Pakistan India War
کیپشن: File Photo   یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے   1972 میں شملہ معاہدہ دباؤ میں رہتے ہوئے مذاکرات کے نتیجہ میں کیا تھا۔ پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو بھی بات چیت کے ذریعہ حل کرنا مان لیا تھا لیکن تب سے  مئی  2025 تک بھارت کی حکومتوں اور ریاستی اداروں نے پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشیمر سمیت ایک بھی مسئلہ کو حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔ مئی  2025 میں کسی وہم میں مبتلا نریدر مودی نے نہ صرف سندھ طاس معاہدہ توڑا بلکہ پاکستان پر بلا اشتعال حملہ بھی کر دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان اب شملہ معاہدہ کی ذمہ داری سے دستبردار ہو رہا ہے تو یہ ہر پہلو سے قابلِ فہم ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   وزیر دفاع خواجہ آصف  نے شملہ معاہدہ کی منسوخی کا نعرہ مستانہ بلند کر دیا۔ وزیر دفاع نے ایک نیوز چینل سے انترویو کے دوران کہا،   شملہ معاہدے کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی،کنٹرول لائن اب سیز فائر لائن ہوچکی ہے۔

خواجہ آصف علی کے اعلان کا معنی یہ ہے کہ اب پاکستان مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سے الحاق کر چکے آزاد کشمیر کو دو حصوں میں ابنٹنے والی نام نہاد  لائن آف کنترول  کو تسلیم نہین کرے گا۔ اس لائن کی حیثیت صرف سیز فائر لائن کی ہے جو    1948 کی کشمیر کی آزادی کی جنگ کے خاتمہ کے روز پاکستان اور انڈیا کے  کنٹرول میں موجود علاقوں کی نشان دہی کرتی ہے اور اس کی  یہ خاص حیثیت  اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعہ بنی جو کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری پر زور دیتی ہے۔

پاکستان  کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید نے دسمبر  1971 میں بھارت کے شب خون کے دوران مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں قید ہونے والے پاکستانی  سپاہیوں کو انڈیا سے واپس لانے کے لئے  1972 میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ  شملہ میں جو جنگ بندی معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق کے تحت پاکستان نے کشمیر میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنترول تقسیم کر لیا تھا۔ اس معاہدہ کی ایک مبہم شق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا اس معاہدہ کے بعد اپنے باہمی تنازعات کو باہمی مذاکرات سے طے کریں گے اور کسی انٹرنیشنل فورم پر نہیں لے جائیں گے۔

Caption   پاکستان دو لخت ہونے کے بعد اس وقت  کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھتو کے سامنے پاکستان کی ریاست کی بحالی سب سے اہم مقصد تھی، فوج کے ایک سال سے دشمن کی قید مین پڑے سپاہیوں کو واپس لانے کے لئے انہوں نے دباؤ میں جو معاہدہ کیا، پاکستان نے ہمیشہ اس پر خلوص کے ساتھ عمل کرنے کی کوشش کی لیکن نریندر مودی کی سازشوں  نے پاکستان کے لئے اس معاہدہ سے دستبردار ہونے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا۔

اب وزیر دفاع خواجہ آصف علی نے ایک نیوز چینل سےگفتگو کرتے ہوئے  کہا ہے کہ شملہ معاہدہ دو ممالک کے درمیان ہے، اس میں ورلڈ بینک یا کوئی تیسرا فریق نہیں ہے، (پاکستان جب چاہے اپنی طرف سے یہ معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے)۔ خواجہ آصف علی نے کہا، شملہ معاہدہ نہ ہونے سے کنٹرول لائن سیز فائر لائن ہو جائےگی، سیز فائرلائن اس کا اصل اسٹیٹس تھا جو بحال ہوجائےگا۔ 

خواجہ آصف جو مسلم لیگ نون کے سینئیر لیڈر بھی ہیں، انہوں نےکہا کہ 1948 کے بعد رائے شماری سے متعلق جو ہوا اس کے بعد یہ سیز فائر لائن ہے، بھارت کے اقدامات کی وجہ سے شملہ معاہدے کی حیثیت اب ختم ہوگئی ہے۔  جنگ کے بعد جو ہوا  اس سے شملہ معاہدے کی وقعت کچھ نہیں رہی۔

خواجہ آصف علی نے کہا،  ہم 1948 کی پوزیشن پر واپس جا رہے ہیں جب یہ سیز فائر لائن کا معاملہ تھا، کشیدگی پر ہم نے واضح کیا تھا کہ اگر یہی رہا تو معاہدوں کی قدر و قیمت نہیں رہےگی۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ "سندھ طاس معاہدے" کا   کوئی فریق یکطرفہ طور پر اس سے نہیں نکل سکتا۔  سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام اقدامات مشترکہ ہو سکتے ہیں، بھارت کبھی 6 ہزار  کیوسِک تو  تو کبھی 25 ہزار کیوسک پانی چھوڑتا ہے، بھارت اپنی مرضی سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔