افشاں رضوان: ضلعی انتظامیہ دودھ اور دہی کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنانے میں تاحال ناکام دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ استعمال کی ان اشیاء کے لیے مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لٹر مقرر کی گئی ہے، تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں دودھ 220 سے 230 روپے فی لٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ قیمتوں میں اس نمایاں فرق نے صارفین کو شدید پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔
اسی طرح دہی کی سرکاری قیمتوں پر بھی عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ اوپن مارکیٹ میں دہی 240 سے 260 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر دکانوں پر سرکاری نرخ نامے آویزاں ہونے کے باوجود ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ دودھ اور دہی فروش من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول کے ذمہ دار ادارے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں میں باقاعدہ چیکنگ کا نظام مؤثر بنایا جائے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ دودھ اور دہی سرکاری قیمتوں پر دستیاب ہو سکیں۔