وقاص احمد: ڈیفنس سی میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور جنسی استحصال کے مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس نے شواہد اکٹھے کرنے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا عمل مزید تیز کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک واپس جانے والی دونوں غیر ملکی خواتین کو ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی تفتیش میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر تحقیقات کے کسی مرحلے پر ان کی پاکستان میں موجودگی ناگزیر ہوئی تو متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کرکے انہیں دوبارہ پاکستان بلانے کا بھی امکان موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے اہم شواہد کے حصول کے لیے دونوں خواتین سے ان کے موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے طلب کیے، تاہم دونوں نے اپنے موبائل فون فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب پولیس نے مقدمے میں گرفتار ملزمان کے موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ ادارے کو بھجوا دیے ہیں، تاکہ ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش ہر زاویے سے کی جا رہی ہے اور شواہد کی روشنی میں میرٹ پر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق فرانزک رپورٹ، بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔
دوسری جانب گزشتہ روز پولیس نے غیر ملکی خواتین کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی کرنے والے چار مزید ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔گرفتار ملزمان میں اپنے آپ کو باس کہلوانے والا ملزم بھی شامل تھا۔
گرفتاری کے دوران باس کہلوانے والے ملزم کی ٹانگیں بھی چھت سے چھلانگ لگاتے ٹوٹ گئیں جبکہ گرفتار ملزمان کی تعداد آٹھ ہو گئی۔
تفصیلات کے مطابق رضا ڈار نے اپنے ایک اور کزن کے ساتھ ملکر تمام ڈرامہ رچایا ۔گرفتار ملزمان میں رضا ڈار کا ایک اور کزن بھی شامل ہے ۔
لڑکیوں کو اغوا کر کے دو روز تک حبس بے جا میں رکھ کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔حبس بےجا کے دوران لڑکیوں کے والدین سے ویڈیو کالز کے زریعے رابطہ کروا کر بھتہ بھی وصول کیا گیا ۔
مزید برآں، رضا ڈار نے ایک لڑکی کے ڈیجیٹیل والٹ سے اپنے والٹ میں ستر ہزار ڈالر بھی ٹرانسفر کیے ۔ فرانس میں مغوی لڑکی کے والد نے فرانس پولیس کو اطلاع دی تھی جس کے بعد اس نے لاہور پولیس کو ایمرجنسی نمبر 15 پر کال کی ۔دو روز تک پویس نے ملزمان کی تلاش جاری رکھی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا ۔
لڑکیوں کی بازیابی کے بعد پولیس نے خود فارن آفس اور فرانس ایمبیسی کو واقعہ کے بارے میں اطلاع دی۔