ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہارٹ اٹیک کے مریض کو بچایا جاسکتا ہے: طبی ماہرین نے حل بتا دیا

ہارٹ اٹیک کے مریض کو بچایا جاسکتا ہے: طبی ماہرین نے حل بتا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:ہارٹ اٹیک، جسے طبی زبان میں مایوکارڈیل انفکشن بھی کہا جاتا ہے، ایک سنگین طبی حالت ہے جو دل کو خون کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ رکاوٹ عام طور پر خون کے جمنے یا دل کی شریانوں میں چربی اور کولیسٹرول کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے، جس سے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچتا ہے. اگر فوری علاج نہ کیا جائے تو ہارٹ اٹیک جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے.

امراض قلب سے محفوظ رہنے کے لئے طبی ماہرین عوام الناس کو مفید اور آسان مشور دیتے نظر آتے ہیں،  ماہر   امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی کی جانب سے بھی امراض قلب کا ایک ایسا نسخہ بتایا جس نےمریض کو بچایا جاسکتا ہے۔

ماہر   امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی نے کورونا ویکسین کو امراض قلب سے جوڑنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی اچانک موت کی وجہ ہمیشہ شریانیں بند ہونا نہیں ہوتی، 25 فیصد وجوہات موروثی بھی ہوتی ہیں جب کہ کھلاڑیوں کی اچانک اموات بھی عموماً دیگر وجوہات سے ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال سے باہر کسی کو دل کا دورہ پڑے تو صرف 7 فیصد لوگ بچ پاتے ہیں لیکن اگر 3 سے 5 منٹ کے اندر مریض کو ’اے ای ڈیز‘ سے جھٹکے دیے جائیں تو 50 سے 70 فیصد تک جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ 

ڈاکٹر ندیم رضوی نے بتایا کہ جوان لوگوں میں دل کی بیماری بڑھنے کاکوئی سائنسی ثبوت نہیں اور نہ ہی ان اموات کا تعلق کورونا ویکسین سے ہے۔