ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  مسلح افواج کے ترجمان کی سخت نیوز کانفرنس کا پی ٹی آئی صوبائی حکومت سے "ردعمل" آگیا

May nine cases, City42, KPK Cabinet, Suhail Afridi

سٹی42:   پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت نے آج پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان کی نیوز کانفرنس میں بہت سیدھے الفاظ میں بیان کی گئی شکایات کا کوئی اثر نہیں لیا اور اس کے بالکل برعکس عمل کرتے ہوئے 9 مئی  2023 کو ریاست کے اداروں اور قومی علامات پر پر تشدد حملوں کے مقدمات کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

سہیل آفریدی کی کابینہ نے 9 مئی کو  پاکستان کے ریاستی اداروں، بشمول ریڈیو پاکستان پشاور پر حملوں اور مردان مین قومی علامت کرنل شیر خان کے مجمسہ کو توڑنے پھوڑنے سمیت متعدد سنگین جرائم کے مقدمے ختم کر دینے کی منظوری دی اور "نو مئی کو  تشدد کے واقعات"  کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔

پشاور میں ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل نے سہیل آفریدی کی کابینہ کے اجلاس کے بعد  نیوز چینل کے نمائندہ کو بتایا ، " صوبائی کابینہ اجلاس میں 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی گئی ہے اور  صوبائی کابینہ کی منطوری ملنے کے بعد اب  51 مقدمات میں ریاست دستبردار ہوگی۔"

ایڈووکیٹ جنرل ک شاہ فیصل اتمان خیل نے بتایا," 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ "

نو مئی 2023 کو پاکستان پر سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں  انتہائی  خوفناک منظم حملے کئے گئے تھے، پنجاب میں ان حملوں میں ملوث  افراد کے خلاف فوراً ہی قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا اور  10 مئی 2023 سے ہی گرفتاریاں شروع ہو گئیں، ڈھائی سال کے دوران پولیس نے ہزاروں گھنٹے پر مشتمل تحقیقات کے ساتھ ان مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے درجنوں  مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا اور عدالتوں نے ان کو قرار واقعی سزائین سنائیں۔ 

نو مئی 2023 کے حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان پشاور اور خیبر پختونخوا کے شہروں مین ہوا تھا۔ خیبر پختونخوا میں ان حملوں کے وقت بھی پی ٹی آئی کی صوبائی ھکومت تھی، اس کے بعد بھی اب تک پی ٹی آئی کی ہی حکومت رہی، پی ٹی آئی کی ھکومت نے ایک بھی مقدمہ کو عدالت کے فیصلہ تک نہیں پہنچایا، آج سہیل آفریدی کی کابینہ نے  51 سنگین جرائم کے مقدمات ختم کرنے کی ہی منطوری دے دی۔

 خیبر پختونخوا حکومت کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہآج کابینہ کے اجلاس وزیر اعلیٰ نے انہیں خصوصی طور پر طلب کیا تھا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے 51 مقدمات واپس لینے کی سفارشات کابینہ کے اجلاس میں پیش کیں، پی ٹی آئی  کےرہنماؤں اور کارکنوں کو   9 اور 10 مئی  کو ہونے والے حملوں کے چشم دید گواہ پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی تحقیقات اور دستیاب ویژیول شواہد کی بنیاد پر مقدمات میں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔  ان مقدمات کا اب تک عدالت میں پہچنچنا ہی ممکن نہین ہوا۔ ان مقدمات میں سزا کی صورت میں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان اسمبلی اور سینئیر رہنماؤں قید کی سزاؤں اور  سیاست کے لئے نااہل ہونے کا  خدشہ ہے۔