سٹی42: بانی اڈیالہ جیل میں انتظار کرتا رہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ اس کی رہائی کے لئے احتجاج کرنے آئیں گے اور پی ٹی آئی کے "چوری کھانے والے مجنوں" احتجاج کے لئے اڈیالہ جیل جانا تو درکنار پارلیمنٹ کی عمارت سے ہی باہر نہیں نکلے۔ اجلاس ختم ہو گیا تو پی ٹی آئی کے ارکان لابی میں جا کر بیٹھ گئے۔
معلوم ہوا ہے کہ آج اسلام آباد مین پارلیمنٹ ہاؤس مین قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہوا تو تحریک انصاف اراکین قومی اسمبلی نے گرفتاری کےخوف سے پارلیمنٹ کی عمارت سے باہر جانے سے گریز کیا اور اجلاس ختم ہونے کے باوجود اراکین لابی میں بیٹھے رہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے آج اپنے ارکان پارلیمنٹ کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ کر بانی کی رہائی کے لئے احتجاج کرنے کی ہدایت کر رکھی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کے باقی ماندہ ارکان نے آج سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات بھی خود درخواست کی کہ گرفتاری سے بچایا جائے۔
سپیکر ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ارکان سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا، "میں پارلیمنٹ کی حدود سے آپ کو گرفتار نہیں ہونے دوں گا."
پی ٹی آئی کے بعض ارکان نے کہا کہ وہ گھر جانا چاہتے ہیں، ان کے لئے پارلیمنٹ کا دوسرا گیٹ کھلوا دیں۔ گھر جانے کی جلدی میں مبتلا ارکان قومی اسمبلی کے لئے سپیکر ایاز صادق نے پارلیمنٹ کی عمارت کا وہ گیٹ کھلوا دیا جہاں سے گزرتے وقت یہ ارکان خود کو "محفوظ" سمجھتے تھے۔ لیکن پی ٹی آئی کے ارکان تب بھی پارلیمنٹ کی عمارت سے باہر نہ آئے۔
پولیس اور ایف سی کی نفری پہلے بھی معمول کے مطابق باہر موجود ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی ارکان نے دوپہر دو بجے پارلیمنٹ کی عمارت سے نکلنا تھا مگر وہ جان بوجھ کر تاخیر کرتے رہے۔
محمود خان اچکزئی اور سلمان اکرم راجا ان چچوری کھانے والے مجنوؤں کو اپنے ساتھ اڈیالہ جیل لے جانے کے لئے قائل کرتے رہے، ناکام ہو گئے تو خود ہی اپنی گاڑیوں مین بیٹھ کراڈیالہ جیل کی طرف چلے گئے۔
اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاج کی ہدایات دینے والا خود کہاں گیا
پی ٹی آئی کے دلیر ارکان تو پارلیمنت کا اجلاس ختم ہونے کے بعد اڈیالہ جیل جانے سے بچنے کے لئے پارلیمنٹ کی بلڈنگ سے ہی نہین نکلے لیکن ان کو احتجاج کرنے کی ہدایت دینے والے پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر ان سے بھی زیادہ دلیر نکلے، بیرسٹر گوہر آج پارلیمنٹ آئے ہی نہیں۔
بیرسٹر گوہر کی عدم موجودگی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر محمود خان اچکزئی کو نام نہاد "تحریک تحفظ آئین پاکستان" کے سربراہ کی حیثیت سے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے لئے اکیلے ہی جانا پڑا۔ ایک خٓتون شاندانہ گلزار ان کے ساتھ گئیں اور ایک وکیل ان کے ساتھ گئے۔ محمود اچکزئی اور ان کے دو ہمراہیوں کو اڈیالہ جیل جانے والی سڑک پر چکری روڈ پر پولیس نے روکا تو وہ وہاں سے واپس اپنے اپنے گھر چلے گئے۔
پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کے احتجاج کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی بنائی ہی نہیں گئی تھی۔