حالات کچھ بھی ہوں تحریک نہیں رُکے گی، پی ڈی ایم کا اعلان

حالات کچھ بھی ہوں تحریک نہیں رُکے گی، پی ڈی ایم کا اعلان

(مانیٹرنگ ڈیسک)حالات کچھ بھی ہوں تحریک نہیں رکے گی، پی ڈی ایم کا اعلان، تحریک کو بھارت سے جوڑنا سلیکٹڈ حکومت کے حواس باختہ ہونے کی دلیل ہے،سابق وزیراعظم نوازشریف پر ملک دشمنی کا الزام قابل مذمت ہے،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قرارداد، مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے سربراہ مقرر، 24نیوز نے اکیس ستمبرکوہی خبر دے دی تھی،

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، پاکستان پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور دیگر جماعتوں کے سربراہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی,اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال سمیت اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ جتنی مرضی گرفتاریاں ہوں تحریک ضرور چلائیں گے، حالات جیسے بھی ہوں اپوزیشن تحریک سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی۔ اس بات پربھی اتفاق ہوا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری گلگت بلتستان کے انتخابات چرانے کی سازش ہے، پی ڈی ایم قرارداد کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی ستائی عوام جعلی حکومت سے نجات چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہ مقرر کردیا گیا، (ن) لیگ کی جانب سے مولانا  فضل الرحمان کا نام پی ڈی ایم سربراہ کے لیے تجویز کیا گیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل ہوں گے جس کا باضابطہ اعلان اسٹیرنگ کمیٹی میں کیا جائے گا۔

ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ روٹیشن کی بنیادپرصدر کے عہدہ کی مدت کا تعین، دیگر مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کا چناؤ پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی، جس کا اجلاس پانچ اکتوبرکو ہوگا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا دو قرار دادیں متفقہ منظور پرمنظورکی گئی ہیں۔ جس کے مطابق سلیکٹڈ مینڈیٹ چورحکومت کا پی ڈی ایم کو بھارت سے جوڑنا اس کے حواس باختہ ہونے کی دلیل ہے، تین مرتبہ عوام کے منتخب وزیر اعظم پر ملک دشمنی کا الزام قابل مذمت ہے۔