رمضان میں مہنگائی کی دہائی، گھی ،آئل تیسری بار مہنگا ہو گیا

Ghee-Oil
Ghee-Oil

فیروز پور روڈ (شہزاد خان، حسنین اولکھ ،فصیح اللہ، سعیدا حمد سعید) رمضان المبارک میں مہنگائی کی دہائی، گھی، آئل تیسری بارمہنگا ہو گیا، وفاق اور پنجاب حکومت کی ساری توجہ رمضان بازاروں اور یوٹیلٹی سٹورز پر مرکوز، اوپن مارکیٹ میں درجہ دوم کا گھی اور آئل بنانے والی کمپنیاں ظالم قصائی کا روپ دھار گئیں۔

رمضان المبارک کے دوران تیسری بار گھی اور آئل کی قیمتیں 5 روپے تک بڑھا دی گئیں، اوپن مارکیٹ میں لاہوریوں کو گراں فروشوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا، گھی اور آئل بنانے والی کمپنیوں نے درجہ دوم کا آئل 5 روپے فی لٹر مہنگا کردیا، اوپن مارکیٹ میں شہریوں کو اب درجہ دوم کا آئل 275 روپے سے بڑھ کر 280 روپے فی لٹر میں مل سکے گا۔

شہریوں نے تبدیلی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ آئل اور گھی بنانے والی کمپنیوں کو قیمتوں میں مسلسل اضافے سے روکا جائے۔

وحدت کالونی رمضان بازار میں خواتین کے سٹال پر ڈیڑھ سے 2 گھنٹے سے چینی کی فراہمی معطل رہی۔ چینی کے حصول کے لیے خواتین کی لمبی قطاریں لگ گئیں، گھنٹوں بیٹھنے کے باوجود چینی نہ ملنے پر خواتین مایوس نظر آئیں۔ وحدت کالونی رمضان بازار میں آدھے سے زیادہ سٹال خالی نظر آئے جبکہ بازار میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی جاتی رہی۔

مکہ کالونی میں بھی چینی کی خریداری کیلئے لمبی قطاریں، شہری روزے کی حالت میں طویل انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں چینی دوگنے داموں میں بلیک میں فروخت کی جا رہی ہے، کئی علاقوں میں سٹاک ہی موجود نہیں ہے۔لاک ڈاون کے باعث شہر کے بڑے سپر سٹورز بند رہنے سے چینی کا بحران مزید شدت اختیار کرگیا۔ 

سٹورز کے پاس چینی سرے سے موجود ہی نہیں۔ دھرم پورہ، گڑھی شاہو، رام گڑھ، باغبانپورہ سمیت کئی علاقوں میں چینی کی قلت سے شہری پریشان ہوگئے۔ سٹی 42 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یوٹیلٹی سٹورز پر قطاروں میں لگا کر خوار کیا جارہا ہے اور اوپن مارکیٹ میں چینی کے دانے دانے کو ترس رہے ہیں