سٹی 42: سپریم کورٹ نے فوجی اہلکاروں کو فوجی عدالتوں سے سزا کیخلاف اپیل کا حق دینے کے کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بنچ نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ قانون کے مطابق اپیل آرمی چیف یا انکا نامزد افسر سنتا ہے،آرمی چیف فوج کا سربراہ ہوتا ہے،کیا بیٹے کے جرم کا فیصلہ باپ سے کروائیں گے۔
جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ ملزم کو الزامات ثابت ہونے کا بتایا جاتا ہے،ملزم کو الزامات کا نہیں بتایا جاتا تو اپیل کیا کرے گا،الزام لگایا ہے تو مواد دینا چاہیے،جس بنیاد پر سزا دی وہ تو بتانا ہوگا، ملزم کو جرم کا تو پتہ ہو۔
جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ ہمیں پہلی دوسری یا تیسری اپیل سے مسئلہ نہیں،سوال یہ ہے کہ اپیل میں لائن آف ڈیفنس کیا ہوگی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سات رکنی بنچ نے فیصلہ دیا تھا، میں نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا،سزا کیخلاف ٹربیونل نہیں بنائیں گے تو معاملہ سول فورم پر بھی جا سکتا ہے، آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت اپیل کا حق دینا ہے، ہم اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے کہاکہ میں ہدایات لے لیتا ہوں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سات رکنی بنچ کے فیصلہ پر عمل ہوا یا نہیں یہ بھی پوچھنا ہے،چیف آف آرمی سٹاف کے بعد ملزم کہاں جائے،کیا آرمی کے اہلکار سروس آف پاکستان میں آتے ہیں کہ نہیں؟
ایڈیشل اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومتی اپیل صرف ایک آبزرویشن کی حد تک ہے۔
عدالت نے عدالتی معاون اسلم خاکی کو تحریری موقف جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔
وفاقی شرعی عدالت نے ملزمان کو فیصلے کی کاپیاں فراہم کرنے کیلئے چھ ماہ میں ترامیم کا حکم دیا تھا۔ وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے 2008 میں سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں ۔کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔