ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دہی کے حیران کن فوائد

دہی کے حیران کن فوائد
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:دہی ایک قدرتی اور غذائیت سے بھرپور غذا ہے جو صدیوں سے ہماری خوراک کا حصہ ہے۔دہی کو روزمرہ کی غذا کا حصہ بنانے سے صحت کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

 اس کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں۔

ایک کپ دہی سے جسم کو روزانہ درکار کیلشیئم کی لگ بھگ 50 فیصد مقدار مل جاتی ہے جس سے ہڈیوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

 دہی میں متعدد غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جن سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔دہی میں لگ بھگ وہ تمام اجزا موجود ہوتے ہیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح دہی میں بی وٹامنز خاص طور پر وٹامن بی 12 اور وٹامن بی 2 کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ دونوں وٹامنز امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

دہی کے ایک کپ سے جسم کو روزانہ درکار فاسفورس کی 28 فیصد، میگنیشم کی 10 اور پوٹاشیم کی 12 فیصد مقدار مل جاتی ہے۔

دہی میں وٹامن ڈی نہیں ہوتا مگر فورٹیفائیڈ دہی میں وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

پروٹین سے بھرپور
پروٹین میٹابولزم کی رفتار بڑھاتا ہے جس سے کیلوریز کو جلانے میں مدد ملتی ہے۔دہی میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پروٹین بھوک کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے اور ایسے ہارمونز بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رکھتے ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دہی کھانے کے عادی افراد کو بے وقت بھوک نہیں لگتی اور دن بھر میں کم کیلوریز جسم کا حصہ بناتے ہیں۔

مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے
دہی کھانے سے مدافعتی نظام مضبوط  اور موسمی بیماریوں سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

دہی میں موجود بیکٹریا جسمانی ورم میں کمی لاتے ہیں جسے متعدد امراض سے منسلک کیا جاتا ہے۔

دل کی صحت بہتر کرے
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ دہی یا دودھ میں موجود چکنائی سے صحت کے لیے مفید کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جس سے دل کی صحت کو تحفظ ملتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق دہی کھانے کی عادت سے امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دہی میں موجود پوٹاشیم سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والا ایک اہم ترین عنصر ہے۔

جسمانی وزن  کنٹرول کرنا ممکن
متعدد تحقیقی رپورٹس میں دہی کھانے کی عادت کو جسمانی وزن میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے جبکہ جسمانی چربی میں بھی کمی آتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔