ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 صحت  کے سنگین مسائل سے بچنے کے لئے کونسی تدابیر اپنائی جائیں ؟

healthy diet
کیپشن: healthy diet
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک  ) دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں جس کا انسانی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔

 اب چونکہ ہمارے ملک میں گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے گرمیوں کا موسم آتے ہی ہم بہت سے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تیز دھوپ، گرمی اور لو کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی اور دیگر امراض کا سامنا رہتا ہے، کھانے پینے میں چیزوں کا صحیح استعمال ہمیں بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

موسم گرما میں تپتی دھوپ اور بجلی کی بندش سے جسم میں موجود پانی کی وافر مقدار نکل جاتی ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے جب کہ مصروفیات کی وجہ سے عمومی طور پر لوگ اس معاملے کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ جو صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے کیونکہ جسم کو اس سیال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے افعال مناسب طریقے سے جاری رکھ سکے جبکہ توانائی اور توازن بھی اس کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے لہذا کوشش کریں اپنے جسم میں پانی کی کمی مت ہونے دیں اور پانی کا استعمال بڑھا دیں۔

 گرمیوں میں بیکٹیریا اور دیگر وائرس زیادہ متحرک ہوتے ہیں، ہیٹ سٹروک اور لوکے سبب پیٹ کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جبکہ صاف، تازہ، سادہ اور قدرتی غذاؤں کے سبب انسان متعدد بیماریوں اور موسمی شکایات سے محفوظ رہتا ہے جبکہ مضر صحت غذا کے استعمال سے صرف نقصان ہی ہوتا ہے۔

  بیماریوں کے علاوہ شدید گرم موسم میں ہیٹ اسٹروک یعنی لُو لگ جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غذا میں  پھلوں سبزیوں اور گوشت کے اپنے اپنے فوائد ہیں جن کا استعمال بہت ضروری ہے، سبزی اور پھل روزانہ استعمال کیے جائیں جبکہ گوشت ہفتے میں ایک بار لازمی ہے۔  اس کے علاوہ سافٹ ڈرنک سے  بچیں کیونکہ یہ ہماری صحت کے لئے بہتر نہیں۔

قوتِ مدافعت  بہتر  ہو تو انسان بہت سی بیماریوں اور محفوظ رہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی کونسی  خوراک یا غذائیں ہیں جو ہماری قوت مدافعت گھٹاتی ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق تلی ہوئی چیزیں  جسم میں مدافعت کے نظام کو متاثر کر کے یہ آپ کی مجموعی صحت کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق تلی ہوئی اشیا کا استعمال دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ تلی خوراک میں ایسے اجزا شامل ہو جاتے ہیں جو جسمانی سوزش اور خلیات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہذا  تلی ہوئی اشیاء سے اجتناب ہی بہتر ہے ۔

جو کچھ ہم کھاتے پیتے ہیں، ہمیں اس چیز کا علم ہونا چاہیے کہ ہمارے جسم کو کتنی خوراک کی ضرورت ہے۔ جب بھوک لگے تو کھانا کھایا جائے، ابھی تھوڑی بھوک باقی ہو تو کھانا چھوڑ دیا جائے۔ یہ اتنا بڑا اصول ہے کہ اس اصول کو اپنانے والے اشخاص انتہائی سڈول، چاق و چوبند، چست و چالاک، انتہائی پھرتیلے ہوتے ہیں۔ ان کے تمام حواس بہترین طور پر کام کرتے ہیں اور وہ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتے۔